امریکا ایران مذاکرات: پاکستان کی سفارتکاری جاری، عالمی رہنماؤں کا آبی گزرگاہیں کھولنے پر زور، آگے کیا ہوگا؟

منگل 28 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران امریکا معاملے میں اس وقت کلیدی حیثیت آبنائے ہرمز کو حاصل ہوگئی ہے۔ ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے جو تجاویز امریکا کو بھجوائی گئی ہیں ان میں بھی آبنائے ہرمز کے کھولے جانے کے حوالے سے ہی بات چیت کو ترجیح دی گئی ہے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اس حوالے سے سعودی عرب اور عمان سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔

سفارتی ماہرین صورتحال سے پرامید نظر آتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاملات جلد طے ہو جائیں گے، ساتھ ہی ساتھ وہ پاکستان کے کردار کے حوالے سے بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کا کردار اِس معاملے میں موجود رہے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا علاقائی امن کے لیے فعال سفارتکاری جاری رکھنے کا اعلان

اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز کا تنازع مرکزی حیثیت حاصل کر گیا ہے۔

26 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، عالمی تجارت پر اس کے اثرات اور بحری آمدورفت کی بحالی پر بات چیت کی گئی۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ اس اہم گزرگاہ میں شپنگ کی بحالی کی فوری ضرورت ہے کیونکہ اس سے عالمی معیشت اور توانائی سپلائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

گزشتہ ماہ فرانسیسی صدر ایمانیوئل میکرون نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بحری تجارتی راستوں کی بندش کے معاملے پر بات چیت کی تھی۔

مذاکرات میں بظاہر ایک رکاوٹ نظر آتی ہے لیکن پیشرفت ہو رہی ہے جس کا بنیادی سبب ایران کی جانب سے سفارتی سرگرمیوں کی رفتار تیز کرنا ہے۔

گزشتہ روز ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی جس میں خطے کی کشیدہ صورتحال اور کشیدگی میں کمی پر بات چیت کی گئی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ روز روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا دورہ بہت مفید رہا، اور امریکا سے مذاکرات کیسے جاری رہ سکتے ہیں، ان امور پر بات چیت ہوئی۔

عباس عراقچی کے مطابق اپنے دورہ عمان کے دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال دونوں ممالک کے درمیان گفتگو کا ایک اہم محور رہی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ ایران اور عمان دونوں اس اہم گزرگاہ کے ساحلی ممالک ہیں، اس لیے اس حوالے سے باہمی مشاورت ناگزیر ہو جاتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب یہاں سے محفوظ بحری آمدورفت عالمی سطح پر ایک حساس اور اہم مسئلہ بن چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ ساحلی حیثیت کے باعث دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان کا تحفظ بھی باہمی رابطے اور ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ایران اور عمان کو ہر ممکن اقدام میں قریبی تعاون اور ہم آہنگی برقرار رکھنی چاہیے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 روز قبل ایران کے ساتھ بات چیت ختم کرتے ہوئے کہاکہ اگر ایران مذاکرات کو جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ ہم سے بات کرے۔ ہم نے اِس معاملے میں بہت زیادہ وقت ضائع کر دیا ہے۔

لیکن خطرناک بات یہ ہے کہ اگلے مہینے یعنی 5 مئی کو دوہفتے کی توسیعی جنگ بندی کا خاتمہ ہورہا ہے۔

ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے جو تجاویز امریکا بھجوائی گئی ہیں، ان میں سر فہرست آبنائے ہرمز کے کھولے جانے کے حوالے سے بات چیت ہے۔

پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے 15 سے 18 اپریل تک دورہ ایران کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے بعد امریکا نے وہاں بحری ناکہ بندی کر دی جس کے بعد ایران نے اسے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا۔

ایران نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ بحری ناکہ بندی ختم کرے اور اِس کے ساتھ ساتھ ایران کی خطے کے ممالک کے ساتھ بھی اِس سلسلے میں بات چیت ہوئی ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت کو فی الحال معطل کر دیا جائے۔

ایران امریکا مذاکرات میں کب کیا ہوا؟

2026 میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے ایک اہم سفارتی کھڑکی کھولی، جہاں پاکستان نے ایک فعال ثالث کے طور پر کردار ادا کیا۔ ابتدائی رابطوں اور جنگ بندی کے قیام کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ یہ عمل کسی بامعنی معاہدے کی طرف بڑھے گا، تاہم حالیہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ یہ مذاکرات اب ایک نازک اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں پیش رفت اور تعطل ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔

12 اپریل کے ابتدائی دور کے مذاکرات کے بعد جب دوسرا مرحلہ شروع ہونا تھا تو صورتحال اچانک بدل گئی۔ 24 اپریل کو امریکی وفد کا دورہ منسوخ ہونا اور ایرانی قیادت کی جانب سے براہِ راست مذاکرات سے گریز اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق بنیادی تنازعات پر اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیاں اور آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی کنٹرول وہ بنیادی نکات ہیں جن پر اختلافات برقرار ہیں اور یہی معاملات مذاکرات کے تعطل کی اصل وجہ بنے ہوئے ہیں۔

اسی تعطل کو توڑنے کے لیے ایران نے پاکستان کے ذریعے ایک نئی مرحلہ وار تجویز امریکا تک پہنچائی ہے، جسے سفارتی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

اس تجویز کے مطابق ایران نے یہ عندیہ دیا ہے کہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں، جن میں سب سے اہم آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بحال کرنا اور جنگ بندی کو مستحکم بنانا شامل ہے۔ اس کے بدلے ایران یہ چاہتا ہے کہ امریکا فوری طور پر مزید فوجی دباؤ بڑھانے سے گریز کرے اور محدود نوعیت کی پابندیوں میں نرمی پر غور کرے۔

ایران نے یہ بھی واضح کیاکہ جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ اور حساس معاملات کو ابتدائی مرحلے میں زیر بحث نہ لایا جائے بلکہ انہیں بعد کے مذاکراتی مراحل کے لیے رکھا جائے، تاکہ پہلے اعتماد سازی کا عمل شروع ہو سکے۔

امریکی مؤقف یہ ہے کہ اگر جوہری معاملہ مؤخر کیا گیا تو ایران کو وقت ملے گا کہ وہ اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر لے، جو بعد میں مذاکرات کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔ اسی لیے امریکا ایک جامع فریم ورک پر زور دے رہا ہے، جس میں سیکیورٹی، جوہری پروگرام اور علاقائی اثرورسوخ کے معاملات کو بیک وقت زیر بحث لایا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکا نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کو ایک مثبت اشارہ تو قرار دیا ہے، مگر اسے ناکافی سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی پالیسی سازوں کے نزدیک اصل مسئلہ ایران کی طویل مدتی اسٹریٹیجک پوزیشن ہے، جسے صرف عارضی اقدامات سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے سخت شرائط برقرار رکھی ہیں، جس سے فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

ایران کی سفارتی سرگرمیاں مثبت پیش رفت ہیں، ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پاکستان کی سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے ایک ٹی وی پروگرام میں ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی شٹل ڈپلومیسی جس میں وہ پاکستان، عمان اور روس گئے، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذاکرات میں تعطل جلد ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ذریعے جو تجاویز ایران نے امریکا کو بھجوائی ہیں، اس کے بعد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جلد شروع ہو سکے گا۔

ایران کی متحرک اور فعال سفارتکاری جاری ہے: مسعود خالد

پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایران امریکا مذاکرات میں وقفہ ہے، اور اِس طرح کے مذاکرات کے لیے یہ ایک معمول کی بات ہے کیونکہ یہ ایک بڑا سخت معاملہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایران نے پاکستان کے ذریعے جو تجاویز امریکا کو بھجوائی ہیں ان پر امریکا کا باقاعدہ ردعمل ابھی آئے گا، لیکن ایران کی جانب سے سفارتی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہے۔

’جس طرح ایرانی وزیرخارجہ پہلے پاکستان آئے پھر عمان گئے، اس کے بعد پھر پاکستان آئے اور یہاں سے روس چلے گئے۔ تو یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ جلد ہی یہ مذاکرات کسی نہ کسی کنارے لگیں گے۔ دوسری طرف برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر نے بھی امریکی صدر سے فون پر بات چیت کی ہے اور بین الاقوامی تجارتی گزرگاہوں کو محفوظ بنانے پر زور دیا ہے۔‘

کیا 5 مئی کے بعد جنگ بندی میں توسیع ہو جائے گی؟ اس سوال کے جواب میں سفارتکار مسعود خالد کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین یہی چاہتے ہیں اور اِس لیے توقع یہی کی جا سکتی ہے کہ یقیناً جنگ بندی ہو جائے گی، لیکن مذاکرات کے لیے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا ختم کیا جانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ اِن مذاکرات میں پاکستان کا کردار بدستور قائم رہے گا۔

بین الاقوامی سفارتی ماہرین پاکستان کے سفارتی کردار کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

کوئنسی انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ایڈم وائنسٹائن کہتے ہیں کہ ایک ثالث کے طور پر پاکستان کو غیر معمولی اعتبار حاصل ہے، کیونکہ وہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ اچھے روابط برقرار رکھتا ہے، اسے ایک معتبر ثالث کے طور پر دیکھا جا سکے۔

بین الاقوامی میگزین دی ڈپلومیٹ میں عمیر جمال لکھتے ہیں کہ امریکا اب خود کو زیادہ پیچیدہ صورتحال میں پاتا ہے۔ تنازع کی شدت میں اضافہ معاشی اور سیاسی طور پر بہت زیادہ لاگت کا باعث بنے گا، اور ایران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ان لاگتوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔

‘دوسری طرف بامعنی مذاکرات نہ تو جلد ہوں گے اور نہ ہی آسان، اور ان کے لیے دونوں فریقوں سے صبر اور سمجھوتوں کی ضرورت ہوگی جبکہ پاکستان مستقبل کی کسی بھی بات چیت میں تقریباً یقینی طور پر مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا، لیکن کوئی بڑی کامیابی صرف 24 گھنٹوں میں حاصل نہیں کی جا سکتی۔‘

برطانوی تھنک ٹینک چیتھیم ہاؤس کی فرزانہ شیخ کہتی ہیں کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ پاکستان کی موجودہ ثالثی کی کوششیں امریکا سے کوئی ٹھوس فائدہ حاصل کریں گی، لیکن تاریخ میں اس کی چند ہی مثالیں ہیں کہ اس سے امید کی جا سکے۔ اسلام آباد کی ایک دانشمند قیادت واشنگٹن کی موجودہ انتظامیہ کی طرف سے کیے گئے نئے وعدوں سے زیادہ امید نہیں رکھے گی۔‘

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز پر ایران کی اجارہ داری قبول نہیں کریں گے، امریکی وزیر خارجہ

اٹلانٹک کونسل میں جنوب ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کوگلمین کہتے ہیں پاکستان کا ثالث کے طور پر معتبر کردار اس کے قومی مفاد میں ہے، اگرچہ ثالثی ناکام ہوئی تو سیاسی اور معاشی خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp