امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران سے جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایرانی مذاکرات کار امریکا کے ساتھ معاہدے میں سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں اور موجودہ بحران سے نکلنا چاہتے ہیں۔
فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ مذاکراتی سطح پر پیش رفت کی خواہش موجود ہے، تاہم ایران کی اعلیٰ قیادت داخلی کمزوریوں اور اختلافات کا شکار ہے، جو کسی بھی ممکنہ ڈیل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا علاقائی امن کے لیے فعال سفارتکاری جاری رکھنے کا اعلان
ان کے مطابق ایرانی قیادت مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ ملک کو بدستور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ایران میں مہنگائی میں اضافہ، قحط سالی جیسے مسائل اور مالی دباؤ بدستور موجود ہیں، حتیٰ کہ حکومت کو تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا ہے، جس میں میزائل پروگرام اور عسکری ڈھانچے شامل ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران مذاکرات سے گریز کرتا ہے تو آئندہ حکمت عملی کا فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں پہلے ہی سخت ہیں اور ان میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔
قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہاکہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی پیشکش امریکا اور دیگر ممالک کے لیے قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہاکہ ایران اس اہم عالمی گزرگاہ کے حوالے سے مختلف مؤقف رکھتا ہے، جو عالمی برادری کے نقطہ نظر سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مارکو روبیو کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطلب دراصل یہ ہے کہ جہاز رانی ایران کی اجازت اور شرائط سے مشروط ہو، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بین الاقوامی آبی راستہ ہے اور کسی ایک ملک کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ طے کرے کہ کون اسے استعمال کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور دیگر ممالک اس بات کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے کہ ایران اس گزرگاہ کے استعمال کو اپنی مرضی کے تابع کرے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران جنگ بند کروا کر پاکستان نے عالمی معیشت کو کتنا فائدہ پہنچایا؟
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی تاحال برقرار ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع ہے، جس پر تاحال عملدرآمد ہورہا ہے۔
پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کررہا ہے، جس کا عالمی سطح پر بھی اعتراف کیا جارہا ہے۔














