بہتر مستقبل کی تلاش میں 2 سال قبل بھارت جانے والا 24 رکنی پاکستانی ہندو خاندان پیر کے روز واہگہ بارڈر کے راستے واپس پاکستان پہنچ گیا، جہاں انہوں نے قیام کے دوران مشکلات اور مبینہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنے کا دعویٰ کیا۔
مزید پڑھیں: بھارتی ثقافت اپنائیں تو مسلمان اور عیسائی بھی ہندو ہیں، آر ایس ایس چیف کا بیان
خاندان کا تعلق سندھ کے ضلع سانگھڑ سے ہے اور وہ بھارت کے شہر احمد آباد میں مقیم تھا۔ خاندان کے سربراہ رانو کے مطابق وہ اپنی اہلیہ، 2 شادی شدہ بیٹوں اور ان کے اہلِخانہ سمیت بہتر طرزِ زندگی کی امید میں بھارت گئے تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانو نے بتایا کہ پاکستانی شناخت کے باعث انہیں روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بقول بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے، راشن کے حصول اور سرکاری ڈسپنسریوں سے ادویات لینے میں بھی رکاوٹیں پیش آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد بھارت میں مقیم پاکستانی شہریوں کو شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا، حتیٰ کہ بعض افراد پر جاسوسی کے الزامات بھی لگائے گئے۔
مزید پڑھیں: عینی آپا تھیں تو پاکستانی
وطن واپسی پر خاندان کے افراد نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک واپس آ کر سکون محسوس کر رہے ہیں۔ خاندان کے زیادہ تر افراد بچے ہیں جبکہ ان کی حالتِ زار مالی مشکلات کی عکاسی کر رہی تھی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی آمد و رفت محدود رہی ہے اور واہگہ بارڈر مخصوص مواقع پر ہی کھولا جاتا رہا ہے۔














