پی ایس ایل ٹکٹس کے لیے لمبی قطاریں، شائقین کا جنون عروج پر

منگل 28 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کے فائنل کیلئے کرکٹ فینز کا انتظار ختم ہوگیا ہے کیونکہ ٹکٹوں کی فروخت باضابطہ طور پر شروع ہو چکی ہے۔

پی سی بی کی جانب سے اجازت ملتے ہی شائقین کا جوش دیدنی ہے ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے لاہور اور کراچی میں لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی کرکٹ فینز کا ردعمل تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔

کئی صارفین کا کہنا تھا کہ شائقین کو اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت تو دے دی گئی ہے لیکن کراچی کے لوگ پھر بھی ٹکٹوں کے لیے جگہ جگہ خوار ہو رہے ہیں۔

ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ شائقینِ کرکٹ پی ایس ایل ٹکٹس کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہیں، اور اس دوران جوش و خروش میں ’بابر، بابر‘ کے نعرے بھی
لگاتے رہے۔

ارفع فیروز نے کہا کہ پی سی بی کو چاہیے کہ تماشائیوں کو اسٹیڈیم تک پہنچنے کے لیے باقاعدگی سے ’مفت پبلک ٹرانسپورٹ‘ فراہم کرنا شروع کردے۔ اس سے پیٹرول کی بچت ہوگی اور پی ایس ایل اور انٹرنیشنل میچز کے دوران اسٹیڈیم کے اطراف ٹریفک کے دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔

واضح رہے کہ پی ایس ایل 11کا بڑا فائنل 3 مئی کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘