بنگلہ دیش نے منگل کے روز باضابطہ طور پر روپپور نیوکلیئر پاور پلانٹ کے پہلے یونٹ میں جوہری ایندھن کی لوڈنگ کا آغاز کر دیا، جو ملک کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
اس پیش رفت کے ساتھ بنگلہ دیش بجلی کی پیداوار کے لیے جوہری توانائی استعمال کرنیوالا دنیا کا 33واں ملک بن گیا ہے۔
افتتاحی تقریب مقامی وقت کے مطابق دوپہر 3 بجے پدما دریا کے قریب، ضلع پبنا کے شہر ایشوردی میں واقع پلانٹ کے مقام پر منعقد ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی حساس تنصیبات پر حملوں کا خدشہ، ملک بھر میں سیکیورٹی الرٹ جاری
بنگلہ دیش کے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فقیـر محبوب انعام نے ایندھن کی لوڈنگ کے عمل کا باضابطہ آغاز کیا۔
حکام کے مطابق پلانٹ کا پہلا یونٹ مختلف تکنیکی آزمائشوں اور کمیشننگ مراحل کی تکمیل کے بعد آئندہ سال فروری تک مکمل کمرشل بنیادوں پر بجلی کی پیداوار شروع کر دے گا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ تمام کام بین الاقوامی حفاظتی معیارات کے مطابق انجام دیے جا رہے ہیں اور حفاظت بنگلہ دیش کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ بنگلہ دیش اور روس کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ریحان آصف اسد نے اس موقع کو بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور قدم آگے بڑھا لیا ہے۔
روساٹم کے ڈائریکٹر جنرل الیکسی لکھاچیف نے کہا کہ روس پلانٹ کے آپریشن، ویسٹ مینجمنٹ اور مستقبل کی تکنیکی ضروریات میں بنگلہ دیش کی مدد جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: توانائی بحران نے بنگلہ دیش کی صنعتوں کو جکڑ لیا، پیداوار میں 24 فیصد کمی
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ یہ تنصیب جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ حفاظتی معیارات کے تحت تعمیر کی گئی ہے۔
اس تقریب میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے بھی ورچوئل طور پر شرکت کی۔
جوہری ایندھن کی پہلی کھیپ 28 ستمبر 2023 کو روس سے ہوائی راستے کے ذریعے بنگلہ دیش پہنچی تھی، جس کے بعد مزید کھیپیں بھی موصول ہوئیں۔
⚛️🇧🇩 Big moment for Bangladesh!
Fuel loading begins at Rooppur Nuclear Power Plant — shifting from construction to power generation. 🚀
⚡First electricity soon
⚡Scaling to 1200 MW
⚡Clean, reliable energy future
🌍 Nuclear = energy security + growth#Bangladesh #NuclearEnergy pic.twitter.com/AQkjn4gc0F— R.K. Singh (@RKSingh96828356) April 28, 2026
ایندھن کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت روپپور منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہر فیول بنڈل میں 312 فیول راڈز ہوتے ہیں، جبکہ پہلے یونٹ میں ایک وقت میں 163 بنڈلز استعمال کیے جائیں گے۔
ایک بار لوڈ ہونے کے بعد یہ ایندھن تقریباً 18 ماہ تک بجلی پیدا کر سکتا ہے، جس کے بعد اسے تبدیل کرنا ضروری ہوگا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش جدید اور مضبوط کوسٹ گارڈ کی تشکیل کے لیے پُرعزم ہے، وزیر داخلہ
استعمال شدہ ایندھن، جو تابکار ہوتا ہے، خصوصی انتظامات کے تحت واپس روس بھیجا جائے گا، جبکہ جوہری توانائی ایجنسی ہر فیول اسمبلی کی نگرانی اور حساب رکھے گا۔
روپپور نیوکلیئر پاور پلانٹ بنگلہ دیش کا پہلا جوہری بجلی گھر ہے اور اسے ملک کے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔











