دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون نے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کا تحفظ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے جیسے معاہدے میں پنہاں ہے، جسے وسیع اتحاد کی شکل دی جانی چاہیے۔
’وی نیوز‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں آصف ہارون نے کہاکہ امن کے دشمنوں کی کوششوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں امن معاہدہ آج نہیں تو کل یقیناً ہوگا اور اس کی وجہ وہ دباؤ ہے جو اس وقت امریکا پر ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ باہمی بھائی چارے پر مبنی ہے، وزیراعظم
بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون کے مطابق جہاں ایک طرف پاکستان اور چین نے مل کر 5 نکاتی امن معاہدہ تجویز کیا وہیں اسے روس کی بھی حمایت حاصل ہے، امریکا نے ایران کی مزاحمت اور فوجی طاقت کے بارے میں بہت غلط اندازے لگائے تھے۔
ان کے مطابق دوسری طرف یوکرین اور غزہ کا مسئلہ جوں کا توں ہے اور ایران کے اندر اگر اب بھی تھوڑی بہت مزاحمت نظر آتی ہے تو اس میں روس اور چین کا یقیناً عمل دخل ہوگا۔
اسلامی نیٹو؟
بریگیڈیئر آصف نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب نے جو دفاعی معاہدہ کیا ہے اسلامی ملکوں کا تحفظ ایسے ہی معاہدے کے ساتھ جڑا ہے اور اس کو وسیع اتحاد کی شکل دی جانی چاہیے۔
پاکستان کیا ایران اور امریکا کو دوبارہ مذاکراتی عمل کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوجائے گا؟ اس سوال کے جواب میں بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون نے کہاکہ پاکستان نے بہت نیک نیّتی کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھایا، جب اقوامِ متحدہ اور او آئی سی جیسے دنیا کے تمام بڑے ادارے ناکام ہوگئے تھے، اور یہی پاکستان کی کامیابی ہے کہ دونوں فریقین کو پاکستان پر اعتماد بھی ہے۔
آصف ہارون کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ساری دنیا کو گالیاں دیتے ہیں لیکن اگر کسی کے لیے وہ اچھے الفاظ کہتے ہیں تو وہ صرف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف ہیں اور یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لیکن یہ کامیابی ایسے ہی نہیں مل گئی بلکہ اس کے پیچھے 4 دن کی جنگ، سول ڈپلومیسی اور نیک نیّتی ہے، جس کے نتیجے میں ہم نہ صرف ایشیا کے ’نیٹ اسٹیبلائزر‘ بن گئے ہیں بلکہ مڈل ایسٹ کے بھی ’نیٹ سیکیورٹی پروائڈر‘ بن چکے ہیں۔
بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کے کہنے پر آئیں گے کیونکہ اس وقت امریکا کو سب سے زیادہ جنگ بندی کی ضرورت ہے، کیونکہ امریکا میں ان کے خلاف شدید مظاہرے ہورہے ہیں۔
کیا اسرائیل امریکا کو مزید اس جنگ میں ملوث رکھ سکتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون نے کہاکہ اسرائیل 100 فیصد امریکا کو مجبور کرسکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا کا کوئی صدر یا کانگریس مین ایسا نہیں جو اسرائیل کی مٹھی میں نہ ہو، امریکا کی خارجہ پالیسی وہی ڈکٹیٹ کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: ’سعودی وژن 2030 اور دفاعی معاہدہ پاکستان کے لیے ممکنہ ترقی کی نوید ثابت ہو سکتے ہیں‘
’ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلے امریکی صدر کسی طرح سے بچتے رہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے زیادہ اسرائیل کی حمایت کی ہے، وہ گولان ہائٹس کا معاملہ ہو یا پھر دارالحکومت یروشلم میں منتقل کرنا ہو، ٹرمپ اسرائیل کی ہر بات مان رہے ہیں۔‘
بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون کے مطابق اب اسرائیل کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ ’وہاں لوگ بنکروں میں رہ رہے ہیں اور ملک چھوڑ کر جارہے ہیں، یہ حقائق ہیں جن سے ڈھارس بندھتی ہے کہ یہ دباؤ کارگر ہوسکتا ہے۔‘













