بھارت کے اوڈیشہ گرامین بینک نے ایک غیرمعمولی واقعے سے متعلق میڈیا رپورٹس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بینک عملے نے کسی بھی فوت شدہ صارف کو جسمانی طور پر پیش کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ بینک کے مطابق یہ واقعہ ضابطہ کار سے لاعلمی اور ایک شخص کے غیرمعمولی رویے کے باعث پیش آیا۔
بینک انتظامیہ نے اپنی ایک برانچ میں پیش آنے والے اس غیرمعمولی واقعے سے متعلق میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض رپورٹس میں حقائق کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ 27 اپریل 2026 کو ضلع کیونجھڑ کے پٹنہ بلاک میں واقع مالیپوسی برانچ میں پیش آیا۔ وضاحت میں بتایا گیا کہ بینک عملے نے کسی فوت شدہ صارف کو رقم نکلوانے کے لیے جسمانی طور پر پیش کرنے کا مطالبہ ہرگز نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیے 20 ہزار روپے کے لیے بھائی قبر کھود کر بہن کا ڈھانچہ بینک لے آیا
بیان کے مطابق جیتو منڈا نامی ایک شخص پہلی بار برانچ آیا اور اپنی بہن کلارا منڈا کے اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے کی درخواست کی۔ بینکاری ضوابط کے تحت کسی تیسرے فرد کو بغیر مناسب اجازت کے رقم نکالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس پر اس شخص نے بتایا کہ اکاؤنٹ ہولڈر کا انتقال ہو چکا ہے۔
برانچ منیجر نے اسے واضح کیا کہ ایسی صورت میں رقم کے حصول کے لیے باقاعدہ قانونی دستاویزات، بالخصوص ڈیتھ سرٹیفکیٹ پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔
Clarification on Reported Incident at Odisha Grameen Bank of claimant bringing sister’s skeleton for death claim process
We would like to address recent media reports regarding an incident at one of the branches of our sponsored Regional Rural Bank, Odisha Grameen Bank.
The…— Indian Overseas Bank (@IOBIndia) April 28, 2026
بینک کے مطابق مذکورہ شخص نشے کی حالت میں تھا، اس نے ہنگامہ آرائی کی اور کچھ دیر بعد انسانی باقیات کے ساتھ واپس آیا، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ وہ اس کی بہن کی لاش ہے، جنہیں چند روز قبل دفنایا گیا تھا اور اب نکال کر لایا گیا ہے۔ اس نے برانچ کے سامنے یہ باقیات رکھ کر اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کا مطالبہ کیا، جس سے انتہائی افسوسناک اور پریشان کن صورتحال پیدا ہو گئی۔
واقعے کے بعد فوری طور پر مقامی پولیس کو اطلاع دی گئی، جس نے موقع پر پہنچ کر معاملے کو اپنے کنٹرول میں لیا۔
یہ بھی پڑھیے خاتون قرض حاصل کرنے کے لیےمردہ انکل کو بینک لے آئی
بینک کے مطابق یہ واقعہ دراصل کلیم سیٹلمنٹ کے طریقہ کار سے لاعلمی اور متعلقہ شخص کی جانب سے قواعد و ضوابط کو تسلیم نہ کرنے کے باعث پیش آیا۔ بیان میں کہا گیا کہ بینک کا مقصد اکاؤنٹ میں موجود رقوم، جو ایک غریب قبائلی خاتون کی ملکیت تھیں، کا تحفظ یقینی بنانا تھا اور کسی قسم کی ہراسانی کا کوئی پہلو موجود نہیں۔
مزید بتایا گیا کہ بینک مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا جا سکے، اور جیسے ہی مطلوبہ دستاویزات فراہم کی جائیں گی، کلیم کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹا دیا جائے گا۔













