خیبرپختونخوا کے اضلاع لکی مروت اور جنوبی وزیرستان میں خوارج کے حملوں میں ایک پولیس افسر اور فوج کے صوبیدار شہید ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق لکی مروت کے علاقے احمد خیل میں خوارج نے فائرنگ کرکے پولیس افسر صدیق اللہ کو شہید کردیا۔ دوسری جانب جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغہ میں سیکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں فوجی صوبیدار طاہر جامِ شہادت نوش کر گئے۔
مزید پڑھیں:جنوبی وزیرستان میں لشمانیاسس کے 255 کیسز رپورٹ، یہ بیماری ہے کیا اور کیسے لگتی ہے؟
سکیورٹی ذرائع کے مطابق خوارج دہشتگرد عناصر سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو نشانہ بنا کر امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں۔ یہ عناصر نہ صرف سیکیورٹی اہلکاروں بلکہ معصوم شہریوں اور اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بناتے ہیں تاکہ ریاستی نظام کو مفلوج کیا جا سکے۔
ایسے حملوں کا مقصد ریاست کو کمزور کرنا اور عوام کے تحفظ کی صلاحیت کو متاثر کرنا ہے، تاہم سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری ذمہ داری اور عزم کے ساتھ خوارج کے عزائم ناکام بنا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق خوارج کی تلاش جاری ہے اور انہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی خارجی کو اس کے جرائم سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: جنوبی وزیرستان میں خارجی دہشتگرد حملہ، جمعیت علما اسلام کے مولانا حافظ سلطان محمد شہید
قوم نے شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے جانوں کا نذرانہ دینے والے ہی اصل ہیرو ہیں۔ عوام سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور خوارج کے ایجنڈے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔














