اسرائیل میں لازمی فوجی بھرتی کے معاملے پر کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں الٹرا آرتھوڈوکس یہودی مظاہرین نے فوجی پولیس چیف کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ حکومت اور سکیورٹی حکام نے واقعے کو سنگین قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیل میں لازمی فوجی سروس سے انکار کرنے والوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں الٹرا آرتھوڈوکس یہودی مظاہرین نے منگل کی شب فوجی پولیس کے سربراہ کے گھر پر دھاوا بول دیا۔
اسرائیلی آرمی ریڈیو کے مطابق ہریدی مظاہرین کے ایک گروہ نے جنوبی شہر اشکلون میں واقع فوجی پولیس چیف یووال یامین کے گھر کے احاطے میں زبردستی داخل ہو کر حالیہ گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ گرفتاریاں ان افراد کے خلاف کی جا رہی ہیں جو لازمی فوجی سروس سے گریزاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیل میں نیتن یاہو کیخلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا، ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر آگئے
اسرائیلی پولیس کے مطابق تقریباً 200 مظاہرین افسر کے گھر کے باہر جمع ہوئے، جبکہ ایک فوجی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بعض مظاہرین باڑ پھلانگ کر گھر کے اندر داخل ہو گئے۔ واقعے کے وقت یووال یامین گھر پر موجود نہیں تھے، تاہم ان کی اہلیہ اور بچے اندر موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق پولیس کو احتجاج کی پیشگی اطلاع تھی، مگر اس کے باوجود مظاہرین کو گھر میں داخل ہونے سے روکا نہ جا سکا۔
اسرائیلی اخبار نے اس واقعے کو الٹرا آرتھوڈوکس برادری کی جانب سے ’سنگین شدت پسندی‘ قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے واقعے کی مذمت کی اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی اس واقعے کو دانستہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب افسر کے اہل خانہ گھر کے اندر موجود تھے۔
دوسری جانب مغربی یروشلم میں گولڈا مئیر جنکشن پر بھی سینکڑوں مظاہرین نے احتجاج کیا، سڑکیں بند کرنے کی کوشش کی اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔
اسی شام مظاہرین نے بنی براک کے قریب ہائی وے نمبر 4 بھی بند کر دی، جہاں وہ نعرے لگا رہے تھے کہ ’ہم مریں گے مگر فوج میں شامل نہیں ہوں گے‘، جبکہ بینرز پر ’سیکولرازم موت سے بھی بدتر ہے‘ جیسے نعرے درج تھے۔
یہ مظاہرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی فوج نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران وقفے کے بعد اس ہفتے دوبارہ فوجی سروس سے انکار کرنے والوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ پولیس نے بعض مظاہروں کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے دو افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیلی فوج کو افرادی قلت کا سامنا: ’فوج خود ہی بکھر جائے گی‘، آرمی چیف
یاد رہے کہ اسرائیل کی سپریم کورٹ نے جون 2024 میں فیصلہ دیا تھا کہ الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو بھی لازمی فوجی سروس میں شامل کیا جائے اور ان مذہبی اداروں کی سرکاری فنڈنگ روک دی جائے جن کے طلبہ فوج میں جانے سے انکار کرتے ہیں۔
اسرائیل کی تقریباً 9.7 ملین آبادی میں الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کا تناسب لگ بھگ 13 فیصد ہے۔ یہ طبقہ مذہبی تعلیمات، خصوصاً تورات کے مطالعے، کو بنیاد بنا کر فوجی خدمت سے استثنا کا مطالبہ کرتا ہے۔ تاہم لازمی فوجی سروس کے قانون کے باوجود یہ استثنا دہائیوں سے تنازع کا باعث رہا ہے، جو حالیہ جنگوں اور بڑھتی ہوئی فوجی ہلاکتوں کے باعث مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ سیکولر جماعتیں اس طبقے سے بھی ’جنگ کا بوجھ‘ اٹھانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔












