بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو کیپٹو گیس لیوی کے تعین کے لیے استعمال ہونے والا قیمت کا فارمولا تبدیل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
اس اجازت کے نتیجے میں اندرونِ خانہ بجلی پیدا کرنے والے صنعتی صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں 60 فیصد تک کمی متوقع ہے۔
تاہم آئی ایم ایف نے اس کمی کو اس شرط سے مشروط کیا ہے کہ صنعتی صارفین کی جانب سے قومی گرڈ سے بجلی کے حصول میں کوئی منفی اثر نہ پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف مشن کی کراچی آمد، مالیاتی توازن اور مانیٹری پالیسی کا جائزہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر بجلی کی طلب میں کمی آئی تو حکومت کو اگست کی مقررہ تاریخ سے قبل ہی گیس لیوی کو بڑھا کر 20 فیصد کرنا ہوگا۔
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کو کیپٹو پاور لیوی کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کی اجازت دے دی ہے۔
نئے نظام کے تحت لیوی کا تعین اب B3 صنعتی ٹیرف کے صرف پیک ریٹ کے بجائے پیک اور آف پیک ریٹس کے وزنی اوسط کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
*صنعتی صارفین کیلئے گیس سستی ہونے کا امکان، آئی ایم ایف نے گیس لیوی میں کمی کی اجازت دے دی* pic.twitter.com/3vsy0Lxm3x
— Iram (Summan) Dar ♌ (@summandar01) April 29, 2026
اس ایک تبدیلی کے نتیجے میں مارچ کے لیے لیوی کی شرح میں تقریباً 60 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔
موجودہ پیک ریٹ کے مطابق کیپٹو لیوی 1303 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، جو نئے فارمولے کے تحت کم ہو کر تقریباً 522 روپے رہ جائے گی۔
تاہم یہ کمی یقینی نہیں اور گزشتہ 10 ماہ کے رجحان کے مطابق قیمتوں میں 30 سے 60 فیصد تک کمی ممکن ہے۔
مزید پڑھیں: بجلی اور گیس کی سبسڈی میں بڑی تبدیلی: کیا نئے نظام سے شفافیت اور سماجی انصاف ممکن ہے؟
قیمت کے فارمولے میں تبدیلی کی درخواست گزشتہ ماہ پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران کی تھی۔
اس وقت آئی ایم ایف نے اس تجویز کا جائزہ لینے کا عندیہ دیا تھا۔
حکومت لیوی کا حساب نیپرا کے مقرر کردہ B3 صنعتی ٹیرف اور اوگرا کے مقرر کردہ گیس نرخوں پر کیپٹو پاور پلانٹس کی پیداواری لاگت کے فرق کی بنیاد پر لگاتی ہے۔
مزید پڑھیں: ’گیس مہنگی کرو‘، آئی ایم ایف نے پاکستان کو ڈیڈ لائن دیدی
آئی ایم ایف نے صنعتوں کے لیے 15 فیصد اضافی گیس لیوی کو منجمد کرنے اور مؤثر پلانٹس کو اس سے مستثنیٰ قرار دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے، اور شرح کو 20 فیصد تک بڑھانے پر زور دیا ہے تاکہ قیمتیں بلند رہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر قومی گرڈ سے بجلی کی طلب مزید کم ہوئی تو آئی ایم ایف جولائی سے ہی لیوی کو 20 فیصد یا اس سے بھی زیادہ بڑھانے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
یہ لیوی دراصل صنعتی صارفین کو گیس کے ذریعے بجلی پیدا کرنے سے روکنے اور انہیں مہنگے قومی بجلی نظام کی طرف منتقل کرنے کے لیے عائد کی گئی ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا تھا کہ اس لیوی کی وجہ سے سوئی کمپنیوں کو نقصان ہو رہا ہے کیونکہ درآمدی گیس کم درجے کے صارفین کو منتقل کی جا رہی ہے۔
ماضی کی پالیسی غلطیوں کے باعث صارفین مہنگی بجلی ادا کرنے سے گریزاں ہیں اور متبادل ذرائع، خاص طور پر چھتوں پر نصب شمسی توانائی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے پہلے نصف میں سوئی کمپنیوں کو 104 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ کیپٹو پاور لیوی کی وصولی بھی تخمینے سے کم رہی۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے 1 ارب ڈالر کی قسط دینے سے پہلے کیا مطالبات رکھ دیے؟
بیوروکریسی اب شمسی توانائی کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے مختلف تجاویز دے رہی ہے، جن میں گھریلو سطح پر سولر پینلز کی تنصیب کے لیے لائسنس کی شرط بھی شامل ہے، تاہم یہ اقدامات صارفین کو مہنگی بجلی چھوڑنے سے روک نہیں سکے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ کیپٹو پاور لیوی کو ایک تعزیری اقدام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے تاکہ غیر مؤثر پلانٹس میں گیس کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہو۔
گیس سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو قومی گرڈ پر منتقل کرنے سے خصوصاً برآمدی شعبے کی صنعتوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔












