ایک بڑی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انگلینڈ میں نوجوانوں کے اندر 11 اقسام کے کینسر تیزی سے بڑھ رہے ہیں تاہم اس اضافے کی مکمل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان میں لشمانیاسس کے 255 کیسز رپورٹ، یہ بیماری ہے کیا اور کیسے لگتی ہے؟
بی بی سی کے مطابق انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ اور امپیریل کالج لندن کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق ان کینسرز میں آنتوں، تھائیرائیڈ، جگر، گردے، لبلبہ، رحم کی جھلی، منہ، چھاتی، بیضہ دانی اور دیگر اقسام شامل ہیں۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بڑھتا ہوا موٹاپا اور جسمانی وزن میں اضافہ اس رجحان کی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتا ہے تاہم یہ مکمل وضاحت فراہم نہیں کرتا۔
ماہرین کے مطابق جسم میں اضافی چربی ہارمونز جیسے انسولین پر اثر ڈالتی ہے جو کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ صرف آنتوں اور بیضہ دانی کے کینسر ایسے ہیں جو خاص طور پر نوجوانوں میں بھی نمایاں طور پر بڑھ رہے ہیں جبکہ باقی اقسام کے کینسر بڑی عمر کے افراد میں بھی اسی طرح بڑھنے کا رجحان رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیے: شرمندگی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے، بڑی آنت کے کینسر کی وہ نشانیاں جو آپ کو معلوم ہونی چاہیں
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ نوجوانوں میں کینسر اب بھی نسبتاً کم ہے لیکن اس رجحان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور وزن کو قابو میں رکھ کر خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تمباکو نوشی، الکحل کا استعمال، جسمانی سرگرمی کی کمی اور کم فائبر والی خوراک جیسے عوامل میں مجموعی طور پر بہتری آئی ہے یا وہ مستحکم ہیں اس لیے یہ عوامل اس اضافے کی مکمل وضاحت نہیں کرتے۔
مزید پڑھیں: باورچی خانوں میں پلاسٹک ذرات کی بہتات، کھانوں میں ان کی ملاوٹ کم کیسے کی جائے؟
اعداد و شمار کے مطابق ہر ایک ہزار نوجوان افراد (جن کی عمر 20 سے 40 سال کے درمیان ہے) میں سے تقریباً ایک کو کینسر لاحق ہوتا ہے جبکہ بڑی عمر کے افراد میں یہ شرح اس سے کہیں زیادہ یعنی تقریباً ہر 100 میں سے ایک ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق اس رجحان کی مکمل وجہ جاننے کے لیے تحقیق جاری ہے اور ممکنہ طور پر پراسیسڈ خوراک، کیمیکل مواد اور اینٹی بایوٹکس کے استعمال جیسے عوامل بھی زیر غور ہیں تاہم ابھی حتمی نتیجے پر پہنچنا باقی ہے۔
واضح رہے کہ یہ رجحان صرف برطانیہ تک محدود نہیں ہے بلکہ ماہرین کے مطابق یہ ایک عالمی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ چونکہ موٹاپا، غیر صحت مند غذا، اور طرزِ زندگی میں تبدیلی جیسے عوامل دنیا بھر میں مشترک ہیں اس لیے دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیا بچپن کا موٹاپا زندگی بھر کے خطرے کی علامت ہے؟
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک میں کینسر کے رجحانات اور ان کے اسباب پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ آیا یہ اضافہ عالمی سطح پر ایک جیسا ہے یا ہر خطے میں اس کی وجوہات مختلف ہیں۔












