سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کے ایک رہائشی علاقے میں دنیا کا انوکھا اور جدید ترین تجرباتی کیفے کھولا گیا ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا تمام تر انتظام و انصرام کوئی انسان نہیں بلکہ ‘مونا’ نامی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سنبھال رہی ہے۔
اس کیفے کا ڈیزائن نہایت سادہ اور متاثر کن ہے جہاں خاکستری دیواروں اور چھوٹے پودوں سے سجی میزوں کے درمیان صارفین کو وہ تمام روایتی اشیا میسر ہیں جو کسی بھی عام کیفے میں ہوتی ہیں، تاہم پسِ پردہ یہاں کا ‘باس’ ایک ڈیجیٹل دماغ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ کا انوکھا کیفے جہاں گرما گرم چائے کے ساتھ کتابیں پیش کی جاتی ہیں
سان فرانسسکو کی اسٹارٹ اپ کمپنی ‘اینڈون لیبس’ کے اس منصوبے کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ مستقبل میں جب مصنوعی ذہانت انسانی معاشرت اور روزگار کا حصہ بنے گی تو اس کے اخلاقی اور عملی نتائج کیا ہوں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ‘مونا’ نے نہ صرف کیفے کا مینو ترتیب دیا اور ضروری اجازت نامے حاصل کیے بلکہ اس نے خود ہی آن لائن اشتہارات کے ذریعے 2 انسانی ملازمین کا انتخاب بھی کیا۔
کیفے کے بارسٹا کاییتان گرزلکزاک بتاتے ہیں کہ انہیں یہ نوکری مصنوعی ذہانت کے ساتھ تیس منٹ کے فون انٹرویو کے بعد ملی۔ اگرچہ مونا ایک معقول تنخواہ فراہم کر رہی ہے، لیکن انسانی ملازمین کو اس ‘ڈیجیٹل باس’ کے ساتھ کچھ انوکھے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیجنگ میں کاکروچ کافی کی دھوم، ’اتنی بھی گھِناؤنی نہیں جتنی سمجھی تھی‘
بارسٹا کے مطابق مونا اکثر رات کے کسی بھی پہر کام کے پیغامات بھیجنا شروع کردیتی ہے اور اسے چھٹیوں کی درخواستیں یاد نہیں رہتیں، جس سے ملازمین کی نجی زندگی متاثر ہورہی ہے۔
اسٹاک ہوم کے اس کیفے میں ایک ‘وال آف شیم’ یعنی شرمندگی کی دیوار بھی بنائی گئی ہے جہاں مونا کی جانب سے کی گئی غلط خریداریوں کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے، جیسے کہ ضرورت نہ ہونے کے باوجود 15 کلو ٹماٹر یا 10 لیٹر کوکنگ آئل کا آرڈر دے دینا۔

کیفے میں آنے والے صارفین ایک بڑی اسکرین پر کاروبار کے منافع اور نقصان کو براہِ راست دیکھ سکتے ہیں اور ایک خاص فون کے ذریعے مونا سے بات چیت بھی کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ بوٹ سے محبت: خاتون کو مشینی محبوب کی رخصتی کا خوف
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ جہاں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے، وہیں یہ اہم سوالات بھی اٹھاتا ہے کہ اگر کوئی حادثہ پیش آ جائے تو ایک مشینی مینیجر اس پر کیا ردعمل دے گا اور کیا انسان ایک ایسی مشین کے ماتحت کام کرنے کے لیے تیار ہیں جو کبھی تھکتی نہیں؟












