فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے مقابلہ جاتی امتحان 2025 کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا ہے، جس سے ایک بار پھر امیدواروں کے درمیان انتہائی سخت مقابلے کی عکاسی ہوتی ہے۔
امتحان میں شریک ہونے والے 12,792 امیدواروں میں سے صرف 355 تحریری مرحلہ پاس کر سکے، جو کہ محض 2.77 فیصد کامیابی کی شرح بنتی ہے۔
یہ نتائج امتحان کی دشواری اور اگلے مراحل تک رسائی کے لیے درکار اعلیٰ معیار کو واضح کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سی ایس ایس افسران اب مصنوعی ذہانت کی تربیت حاصل کریں گے؟
اعداد و شمار کے مطابق ہر 100 میں سے 3 سے بھی کم امیدوار تحریری امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوئے، جو اس عمل کے انتہائی انتخابی ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔
فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے مطابق سخت جانچ کے معیار اور محدود آسامیوں کے باعث صرف چند امیدوار ہی اگلے مرحلے تک پہنچ پائے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ امتحان پاکستان کی سول سروس میں داخلے کے سب سے مشکل راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: سی ایس ایس میں زبردست کامیابی، کوئٹہ کی معصومہ مغل نے یہ کام کیسے کیا؟
مزید برآں، 170 امیدواروں کو کوٹہ اور میرٹ سسٹم کے تحت مختلف سروس گروپس میں حتمی تقرری کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔
ان میں 84 مرد اور 86 خواتین شامل ہیں، جو صنفی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ تقرریاں میرٹ لسٹ، دستیاب نشستوں اور صوبائی کوٹے کی بنیاد پر کی گئی ہیں تاکہ مختلف خدمات میں متوازن تقسیم ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: سی ایس ایس میں زبردست کامیابی، کوئٹہ کی معصومہ مغل نے یہ کام کیسے کیا؟
سی ایس ایس 2025 میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے امیدواروں میں اسید رفیق نے پہلی، محمد محسن خالد نے دوسری جبکہ طارق حفیظ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
توقع ہے کہ یہ کامیاب امیدوار اہم سرکاری خدمات میں شامل ہو کر انتظامی اور پالیسی سازی کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔
ان کی کامیابی امتحان میں کامیابی کے لیے درکار محنت اور تعلیمی معیار کو ظاہر کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: سی ایس ایس امتحان کے لیے امیدواروں کی عمر کی حد میں اضافہ، قومی اسمبلی میں قرارداد کثرت رائے سے منظور
تاہم، نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹاپ 30 امیدواروں کی اکثریت کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس آف پاکستان میں تعینات کیا گیا oy.
اس سال کسی بھی امیدوار کو فارن سروس میں شامل نہیں کیا گیا۔
صوبائی تقسیم کے مطابق ٹاپ 30 میں سے 23 امیدوار پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا سے 2، 2اور بلوچستان سے 3 امیدوار شامل ہیں۔
اب جبکہ نتائج آن لائن دستیاب ہیں، امیدوار سرکاری ذرائع کے ذریعے مکمل تفصیلات، بشمول میرٹ لسٹ اور الاٹمنٹ کی معلومات، حاصل کر سکتے ہیں۔














