امریکا کا چین کی ڈیپ سیک سمیت متعدد کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے گریز، 100 سے زائد ادارے سیکیورٹی رسک قرار

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا نے چین کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈیپ سیک سمیت 100 سے زائد کمپنیوں کو تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے فیصلے کو فی الحال مؤخر کر دیا ہے، جس کے باعث واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ٹیکنالوجی کشیدگی مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔

امریکا نے چین کی معروف اے آئی اسٹارٹ اپ کمپنی ڈیپ سیک، میموری چِپ بنانے والی کمپنی CXMT اور 100 سے زائد دیگر اداروں کو اپنی تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے فیصلے پر فوری عملدرآمد روک دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی اور تجارتی شعبوں میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔

رائٹرز کے مطابق یہ معلومات ان ذرائع نے فراہم کی ہیں جو اس معاملے سے براہ راست واقف ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کو گزشتہ سال امریکی محکمہ تجارت کی انٹرایجنسی کمیٹی نے سیکیورٹی خطرات قرار دیتے ہوئے ’انٹیٹی لسٹ‘ میں شامل کرنے کی منظوری دی تھی، تاہم یہ فہرست تاحال باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئی۔

امریکی محکمہ تجارت کی ’انٹیٹی لسٹ‘ ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت کسی بھی کمپنی کو امریکی مصنوعات، سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی تک رسائی کے لیے خصوصی لائسنس درکار ہوتا ہے، اور یہ لائسنس عموماً مسترد کر دیا جاتا ہے۔

ڈیپ سیک کے حوالے سے امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کمپنی چین کی فوجی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں میں معاون رہی ہے، جبکہ اس نے مبینہ طور پر جنوب مشرقی ایشیا میں جعلی کمپنیوں کے ذریعے جدید امریکی چپس تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی کی مصنوعی ذہانت کی کم قیمت ٹیکنالوجی نے 2025 میں عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں خاصی توجہ حاصل کی تھی۔

اسی طرح CXMT، جو چین کی سب سے بڑی میموری چِپ ساز کمپنی ہے، کو بھی امریکی دفاعی اداروں کی رپورٹس میں فوجی معاون کمپنی کے طور پر نامزد کیا جا چکا ہے۔ تاہم اس کے باوجود اسے بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیپ سیک کا نیا اے آئی ماڈل وی4 متعارف، لاگت میں نمایاں کمی کا دعویٰ

رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے حالیہ برسوں میں متعدد چینی کمپنیوں کو روسی ڈرونز کی سپلائی اور جدید چپ ٹیکنالوجی کے مبینہ غلط استعمال جیسے معاملات میں بھی نامزد کیا تھا، مگر ان میں سے کئی کمپنیوں کو بھی ابھی تک باضابطہ فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر مختلف پالیسی ٹولز استعمال کر رہا ہے تاکہ حساس ٹیکنالوجی کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روکا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق نئی کمپنیوں کو فہرست میں شامل نہ کرنے کا عمل اس خدشے کو جنم دے رہا ہے کہ امریکی ٹیکنالوجی غیر ارادی طور پر مخالف ممالک تک پہنچ سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر امریکی تجارتی پالیسی اور قومی سلامتی کے اقدامات کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔

ادھر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی تجارتی پابندیوں، ٹیرف اور سیمی کنڈکٹرز تک رسائی جیسے مسائل کی وجہ سے کشیدہ ہیں، اور یہ تازہ پیش رفت اس کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp