اینڈومیٹریوسس: خواتین کی تکلیف دہ بیماری کی اب تشخیص جلد ممکن

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں ہر 10 میں سے ایک خاتون کو متاثر کرنے والی بیماری اینڈومیٹریوسس کی تشخیص میں اکثر کئی سال لگ جاتے ہیں لیکن اب آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ابتدائی تحقیق نے امید پیدا کی ہے کہ نئی اسکین ٹیکنالوجی اس بیماری کی جلد شناخت میں مدد دے سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوجوانوں میں 11 اقسام کے کینسر میں اضافہ، سائنسدانوں نے ممکنہ وجہ کا ابتدائی سراغ لگا لیا

بی بی سی کے مطابق اس نئی تکنیک میں خصوصی سی ٹی اسکین کو ایک سالماتی ٹریسر کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے جو جسم میں ان ابتدائی تبدیلیوں کو ظاہر کرتا ہے جو روایتی اسکینز میں اکثر نظر نہیں آتیں۔

ماہرین کے مطابق اگر بڑے پیمانے پر تحقیقات میں اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو خواتین کو اپنی علامات کی وجہ بہت جلد سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اینڈومیٹریوسس ایک تکلیف دہ بیماری ہے جس میں رحم کی اندرونی تہہ جیسے خلیے جسم کے دیگر حصوں میں بڑھنے لگتے ہیں۔ اس بیماری کی علامات میں شدید درد، بہت زیادہ ماہواری، انتہائی تھکن اور پیٹ کے نچلے حصے میں درد شامل ہیں جو اکثر دیگر بیماریوں سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے درست تشخیص میں اوسطاً نو سال تک لگ سکتے ہیں۔

تحقیق کی مرکزی محقق ڈاکٹر ٹیٹانا گبنس کے مطابق عام اسکینز اکثر ابتدائی مرحلے کی بیماری کو نہیں پکڑ پاتے اور زیادہ تر صرف بیماری کے شدید مراحل میں تبدیلیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: شرمندگی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے، بڑی آنت کے کینسر کی وہ نشانیاں جو آپ کو معلوم ہونی چاہیں

ان کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے بہت سی خواتین کو بار بار کہا جاتا ہے کہ ان کی رپورٹس نارمل ہیں حالانکہ وہ شدید علامات کا سامنا کر رہی ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جلد تشخیص سے مریض اپنی زندگی کے اہم فیصلے بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔

ادھر اس بیماری سے متاثرہ خواتین میں سے ایک، مینسٹرول ہیلتھ پروجیکٹ کی شریک بانی گیبریلا پیئرسن نے بتایا کہ انہیں 10 سال سے زائد عرصے تک غلط تشخیص اور مسلسل تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق بیماری نے ان کی صحت، تعلیم، کیریئر اور ذہنی حالت پر گہرے اثرات ڈالے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی کا معیار بری طرح متاثر ہوا اور اگر انہیں شروع میں درست تشخیص مل جاتی تو ان کی زندگی مختلف ہو سکتی تھی۔

مزید پڑھیں: باورچی خانوں میں پلاسٹک ذرات کی بہتات، کھانوں میں ان کی ملاوٹ کم کیسے کی جائے؟

موجودہ دور میں اینڈومیٹریوسس کی حتمی تشخیص کے لیے لیپروسکوپی کی جاتی ہے جس میں پیٹ میں چھوٹا سا کیمرا داخل کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف تکلیف دہ ہو سکتا ہے بلکہ اس کے لیے بھی طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔

نئی تحقیق میں 19 مریض خواتین کا اسکین کیا گیا جن میں سے 16 میں بیماری کی درست نشاندہی ہوئی جبکہ بعد میں سرجری سے 17 کیسز کی تصدیق کی گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ نہ صرف جلد تشخیص بلکہ بیماری کی نگرانی اور علاج کے اثرات سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس طریقہ کار میں تابکاری کا استعمال ہوتا ہے اس لیے اس کے فوائد اور خطرات کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: گھروں کی ہوا میں کروڑوں مائیکرو پلاسٹک موجود، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

اینڈومیٹریوسس کی عام علامات میں مخصوص ایام میں ہونے والا شدید درد، پیٹ اور کمر کا درد، بول و براز کے اخراج کے دوران درد، ازدواجی تعلق کے دوران تکلیف، بانجھ پن اور شدید تھکن شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp