گرینڈ حیات، بی این پی لیز کیس: ڈیفالٹ، واجبات اور قانونی کارروائی کا مکمل پس منظر

جمعہ 1 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت گرینڈ حیات لیز منسوخی کیس میں نہ صرف مالی واجبات کی عدم ادائیگی اور معاہداتی ڈیفالٹ کے معاملات زیر بحث ہیں بلکہ منصوبے کے مختلف حصوں میں تیسرے فریقین کو اپارٹمنٹس اور کمرشل یونٹس کی فروخت کے باعث پیدا ہونے والے قبضے اور ملکیت کے قانونی تنازعات نے بھی کیس کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جبکہ یہ معاملہ سرکاری زمین، قبضہ اور عوامی مفاد کے تحفظ سے جڑا ہوا ایک اہم قانونی کیس قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نیب: میگا کرپشن کے 179 مقدمات میں سے نصف بند یا ختم، کون کون فیضیاب ہوا؟

کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے 2005 میں جناح کنونشن سینٹر کے قریب 13.5 ایکڑ زمین 5 ستارہ ہوٹل منصوبے کے لیے لیز پر دی تھی۔ اس منصوبے کی سب سے بڑی بولی 4.882 ارب روپے کے ساتھ میسرز بی این پی نے حاصل کی، تاہم معاہدے کے مطابق ابتدائی 15 فیصد ادائیگی کے بعد کمپنی کو قبضہ دے دیا گیا۔

بعد ازاں ادائیگیوں میں مسلسل ڈیفالٹ اور بار بار ری شیڈولنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا، جبکہ کمپنی اپنی مالی ذمہ داریاں مکمل کرنے میں ناکام رہی۔ منصوبے میں اپارٹمنٹس اور کمرشل حصوں کی فروخت اور سب لیزنگ کے باعث تیسرے فریق کے دعوے اور قانونی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوئیں۔

سپریم کورٹ نے 09 جنوری 2019 کو لیز بحالی کا فیصلہ دیا، تاہم شرط رکھی گئی کہ بی این پی پہلے سے ادا شدہ رقم منہا کرنے کے بعد 17.5 ارب روپے ادا کرے گی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کمپنی نے اب تک صرف 2.916 ارب روپے ادا کیے ہیں جبکہ 14.583 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

مزید یہ کہ 1.689 ارب روپے کی بینک گارنٹی بھی ختم ہو چکی تھی جس کی مطلوبہ تجدید یا اضافہ نہیں کیا گیا۔ سی ڈی اے کی جانب سے دسمبر 2022 میں ادائیگی اور بینک گارنٹی سے متعلق نوٹس جاری کیے گئے جبکہ 07 فروری 2023 کو لیز منسوخی کا نوٹس دیا گیا۔

مسلسل عدم ادائیگی پر سی ڈی اے نے 08 مارچ 2023 کو قانونی طور پر لیز ختم کر دی۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ واجبات کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے کمرشل جگہ دینے کی تجویز قبول نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس سے دیگر ڈیفالٹرز کے لیے غلط مثال قائم ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:’ بھول جائیں کہ 17 ارب کو 10 ارب کردوں گا‘، سپریم کورٹ نے کانسٹیٹوشن ایونیو ون کی درخواست نمٹا دی

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی اس معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے عوامی مفاد کے تحفظ اور کارروائیوں کو آگے بڑھانے کی ہدایات دی تھیں۔ بعد ازاں سی ڈی اے نے عمارت کے انتظامی امور چلانے کے لیے ایڈمنسٹریٹر اور عبوری کمیٹی بھی مقرر کی۔

اسی کیس سے متعلق دائر مقدمات، جن میں بی این پی اور بینک آف پنجاب سمیت دیگر فریق شامل تھے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے 30 اپریل 2026 کو خارج کر دیے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتا ہے، تاہم سرکاری زمین کے غلط استعمال، معاہداتی ڈیفالٹ اور عوامی واجبات کی عدم ادائیگی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ کیس بنیادی طور پر عوامی وسائل، قانونی معاہدوں اور ریاستی زمین کے تحفظ کا ایک اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی: آوارہ کتوں کا قربانی کے جانور پر دھاوا، پے درپے حملوں سے دنبہ دم توڑ گیا

خلائی تحقیق میں چین کا نیا سنگِ میل، انسان کو چاند پر اتارنے کے لیے مشن کامیابی سے روانہ

فرنچ اوپن کی تاریخ کا انوکھا واقعہ، ٹینس اسٹار آرینا سبالینکا کے پالتو کتے کو بھی آفیشل ٹورنامنٹ کا کارڈ جاری

پنجاب حکومت کا گرین سرمایہ کاری کی جانب بڑا قدم، ویسٹ ٹو انرجی پالیسی پر کام تیز

پاکستان رئیل اسٹیٹ کی بڑی کامیابی، ایشیا پیسیفک پراپرٹی ایوارڈز میں 2 عالمی اعزازات اپنے نام کرلیے

ویڈیو

عید الاضحیٰ: پشاور میں باربی کیو کی تیاریوں کے منفرد انداز

لگژری فارم ہاؤس! جہاں کروڑوں روپے مالیت کے قربانی کے بیل رہتے ہیں

عیدالاضحیٰ کے موقع پر کون سے سیاحتی مقامات سیر و تفریح کے لیے بہترین ہیں؟

کالم / تجزیہ

بدرالدین بدر، معروف ادیبوں کا ایک فراموش کردہ دوست

ڈونلڈ ٹرمپ کی قربانی

نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟