بنگلہ دیش کے ضلع نارائن گنج میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس گشت ٹیم پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 2 اہلکار شدید زخمی ہو گئے جبکہ حملہ آور پولیس کا ایک ہتھیار بھی چھین کر فرار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش پولیس میں اعلی سطح پر تبادلے، آر اے بی، ایس بی اور سی آئی ڈی کے نئے سربراہ تعینات
پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی صبح تقریباً 2:45 بجے بندر تھانے کے علاقے چوہدری باری میں پیش آیا، جہاں اہلکار معمول کی گشت پر موجود تھے۔
اہلکاروں کے مطابق اسسٹنٹ سب انسپکٹر سہیل، کانسٹیبل فیصل اور کانسٹیبل میزانور کو ہنگامی کال موصول ہونے کے بعد موقع پر بھیجا گیا۔ جب پولیس ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر مشتبہ افراد سے تفتیش شروع کی تو قریب ہی واقع ایک گھر پر چھاپہ مارا گی جہاں سے مبینہ ملزمان نے پولیس ٹیم پر تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔
حملے کے دوران اے ایس آئی سہیل کی ٹانگ جبکہ کانسٹیبل فیصل کے پیٹ اور جسم کے دیگر حصوں پر شدید چوٹیں آئیں۔ اس دوران حملہ آور پولیس کا ایک شاٹ گن چھین کر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
زخمی اہلکاروں کو ابتدائی طور پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ کانسٹیبل فیصل کو بعد ازاں ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش پولیس چیف کا نوٹس، انتہا پسندی، بھتہ خوری اور منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس طارق ال مہدی کے مطابق ایک مشتبہ شخص سُہان (عمر 24 سال) کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے، جبکہ چھینا گیا اسلحہ بعد میں جائے وقوعہ کے قریب سے برآمد کر لیا گیا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ اس سے قبل 9 مارچ کو بھی اسی ضلع میں ایک پولیس اہلکار پر حملہ کر کے اس کا اسلحہ چھین لیا گیا تھا تاہم وہ ہتھیار اگلے روز برآمد کر لیا گیا تھا اور کئی مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: 2016 فائرنگ کیس میں سابق پولیس افسران پر فردِ جرم عائد
حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔














