بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے 2016 میں 2 طلبہ رہنماؤں کو گولیاں مارنے اور انہیں معذور کرنے کے مقدمے میں سابق ایس پی جیسور انیس الرحمان سمیت 8 افراد کے خلاف باضابطہ فردِ جرم عائد کر دی ہے۔
یہ حکم پیر کے روز انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل ون کے 3 رکنی بینچ نے جاری کیا، جس کی سربراہی جسٹس ایم ڈی غلام مرتضیٰ مجمدار کر رہے تھے۔
استغاثہ کے مطابق یہ الزامات انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں 2013 کے متنازع آپریشن کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کا دعویٰ
پروسیکیوشن کے مطابق متاثرہ دونوں افراد جیسور کے علاقے چاؤگاچھا میں اسلامی چھاترا شبر کے رہنما تھے، جنہیں 2016 میں مبینہ طور پر ٹانگوں میں گولیاں ماری گئیں۔
مزید الزام ہے کہ انہیں اسپتال منتقل کرنے سے قبل ان کے زخموں میں ریت بھر دی گئی، جس کے باعث شدید انفیکشن ہوا اور بالآخر ان کی ٹانگیں کاٹنا پڑیں۔
ملزمان میں شامل 8 افراد میں سے 3 سابق پولیس اہلکار اس وقت حراست میں ہیں اور انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہاز کی واپسی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردیں
ان کی شناخت عقیل الاسلام، سجاد الرحمان اور قاضی ظہور الحق کے ناموں سے ہوئی ہے۔
فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد عدالت نے زیرِ حراست ملزمان سے جرم قبول کرنے سے متعلق سوال کیا، جس پر تینوں نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی۔
اس مقدمے میں سابق ایس پی انیس الرحمان سمیت دیگر 5 ملزمان مفرور ہیں۔














