دنیا اس وقت توانائی کے ایک غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کے خدشات نے کئی معیشتوں کو شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔
ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے ایک اہم پیشرفت یہ ہے کہ ملک میں تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار کے شعبے میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹنڈو الہ یار میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت
واضح رہے کہ پاکستان کی بڑی توانائی کمپنیوں جن میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (OGDCL)، ماری انرجیز (Mari Petroleum)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) اور پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ (POL) شامل ہیں، نے سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاقوں میں متعدد نئے کنوؤں سے تیل اور گیس کی دریافتیں کی ہیں۔
ان پیش رفتوں کو توانائی کے شعبے کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک درآمدی توانائی پر بھاری انحصار کرتا ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان نے کہاں کہاں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت کیے ہیں۔
ضلع اٹک (سوغری نارتھ-1):
پنجاب میں ضلع اٹک کے سوغری نارتھ-1 کنویں سے گیس اور کنڈینسیٹ کی پیداوار حاصل ہوئی ہے۔ ابتدائی آزمائشی نتائج کے مطابق یہاں سے یومیہ قریباً 14 ملین مکعب فٹ (MMSCFD) گیس اور 76 بیرل کنڈینسیٹ حاصل ہو رہا ہے۔ کنڈینسیٹ ایک ہلکی قسم کا خام تیل ہوتا ہے جو ریفائنری میں پیٹرول اور دیگر مصنوعات کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
خیبرپختونخوا (رزگیر-1 اور اسپن وام):
شمالی وزیرستان کے اسپن وام-1 کنویں میں گیس اور کنڈینسیٹ کی دریافت نے قبائلی اضلاع میں توانائی کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹال بلاک میں رزگیر-1 کنویں سے بھی بڑی کامیابی ملی ہے، جہاں سے یومیہ 20 ملین مکعب فٹ گیس اور 250 بیرل سے زیادہ تیل کی پیداوار متوقع ہے۔
سندھ (گھوٹکی اور سجاول):
سندھ میں ماری انرجیز نے گھوٹکی اور سجاول کے علاقوں میں نئی دریافتیں کی ہیں۔ ماری فیلڈ کے ‘غزج فارمیشن’ سے حاصل ہونے والی گیس ملکی پیداوار میں مسلسل اضافہ کررہی ہے۔ اسی طرح او جی ڈی سی ایل نے سجاول کے نور ویسٹ-1 کنویں سے یومیہ 1.24 ملین مکعب فٹ گیس کی دریافت کی تصدیق کی ہے۔
بلوچستان (جندران ویسٹ-1):
ایک طویل عرصے کے بعد بلوچستان کے ضلع کوہلو میں ماری پیٹرولیم نے جندران ویسٹ-1 سے گیس دریافت کی ہے، جس کے ابتدائی نتائج یومیہ 2.39 ملین مکعب فٹ گیس ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ دریافت صوبے میں سیکیورٹی صورتحال کی بہتری اور تلاش کے نئے افق کھولنے کی علامت ہے۔
ملکی پیداوار اور درآمدات کا موازنہ
میڈیا اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے گیس اور تیل کے قابلِ بازیافت ذخائر میں حالیہ برسوں کے دوران معمولی بہتری کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر ملک اب بھی اپنی توانائی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا قریباً 70 فیصد سے زیادہ حصہ مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، جبکہ مقامی گیس کی پیداوار (تقریباً 3.2 BCFD) ملک کی مجموعی طلب (6 سے 7 BCFD) کے مقابلے میں نصف ہے۔ اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کی درآمد پر بھاری زرمبادلہ خرچ کیا جاتا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ نئی دریافتیں ایک مثبت پیش رفت ہیں، لیکن یہ ابھی ملکی ضروریات کے مقابلے میں محدود ہیں۔ اصل چیلنج ان ذخائر کو فوری اور مؤثر انداز میں قومی گرڈ اور پائپ لائن نیٹ ورک میں شامل کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا، کوہاٹ میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ (Circular Debt)، جو کہ 2600 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، نئی تلاش اور سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
موجودہ عالمی صورتحال کے تناظر میں یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں امکانات اب بھی موجود ہیں۔ اگر تلاش اور پیداوار کا یہ عمل جدید ٹیکنالوجی اور بہتر مراعات کے ساتھ جاری رہا، تو آنے والے برسوں میں پاکستان درآمدی ایندھن پر اپنا انحصار کم کر کے معاشی خودمختاری کی سمت اہم قدم اٹھا سکتا ہے۔














