اسلام آباد کے گرد و نواح میں تیندوؤں کی حالیہ موجودگی نے انسان اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطے کو نمایاں کر دیا ہے۔
اس صورتحال پر عالمی ادارہ ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ ان کے قدرتی ماحول کے سکڑنے، شکار کی کمی اور شہری پھیلاؤ کے باعث پیدا ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امام ترکی رائل نیچر ریزرو میں جنگلی حیات کی شاندار افزائش، 90 سے زائد نئے جانور پیدائش
ادارے کی جانب سے 3 مئی کو منائے جانے والے عالمی یومِ تیندوا سے قبل جاری بیان میں بتایا گیا کہ مارچ کے دوران ایک عام تیندوا نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے کیمپس میں دیکھا گیا، جس کے بعد قریبی علاقوں میں بھی اس نوعیت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ واقعات مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے ماحولیاتی نظام میں بڑھتی ہوئی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل حمد نقی خان نے کہا کہ پارک اور اس کے اطراف کے علاقے نہایت اہم ماحولیاتی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم ان کے قریب ترقیاتی سرگرمیاں جنگلی حیات کے لیے سنگین اور ناقابلِ واپسی خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق رہائش گاہوں کی تقسیم، جنگلی راستوں کی بندش اور ماحولیاتی خدمات کی خرابی جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
ادارے کے وائلڈ لائف پریکٹس لیڈ محمد جمشید اقبال چوہدری نے کہا کہ تیندوے اگرچہ خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر موجودہ صورتحال محض موافقت نہیں بلکہ بے دخلی کی عکاس ہے، جہاں جنگلی حیات کو انسانی آبادیوں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مٹھائی کی دکان میں گھسنے والا تیندوا 10 گھنٹوں بعد پکڑا گیا
بیان میں خبردار کیا گیا کہ اس بڑھتے ہوئے رابطے کا ایک بڑا خطرہ مقامی آبادی کے ساتھ تصادم ہے، خصوصاً مویشیوں پر حملوں کی صورت میں، جس کے نتیجے میں جوابی کارروائی کے طور پر تیندوؤں کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
ادارے نے رہائش گاہوں کے تحفظ، آگاہی مہمات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا ہے۔














