بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں منظم جرائم اور گینگ تشدد کی نئی لہر نے شہریوں اور سیکیورٹی اداروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق شہر میں مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سرگرم مجرمانہ نیٹ ورکس دوبارہ منظم ہو رہے ہیں، جس سے ٹارگٹ کلنگ اور جرائم کی وارداتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈھاکہ: ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزم کو اسلحہ کیس میں 10 سال قید
تازہ ترین واقعہ 28 اپریل کو پیش آیا جب بدنام زمانہ مجرم خوندکار نعیم احمد عرف ’ٹِٹن‘ کو دن دہاڑے مخالف گروہ نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ یہ قتل ڈھاکہ میں پہلے ہونے والی ہائی پروفائل گینگ ہلاکتوں سے مماثلت رکھتا ہے، جس سے شہر میں ایک بار پھر پرتشدد انڈرورلڈ تنازعات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 21 ماہ کے دوران ڈھاکہ میں کم از کم 23 بڑے جرائم کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جو منظم گینگز سے منسلک ہیں۔ ان میں 7 قتل شامل ہیں جن میں سے 6 فائرنگ کے ذریعے کیے گئے، جبکہ کاروباری مراکز پر حملے، بم دھماکے، پرتشدد جھڑپیں اور بھتہ خوری کے واقعات بھی شامل ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈھاکہ کے کئی علاقے، جن میں دھان منڈی، محمد پور، میرپور، گلشن، بددا، موغ بازار اور موتی جھیل شامل ہیں، منظم جرائم کے نئے مرکز بن چکے ہیں۔ ان علاقوں میں پرانے گینگ، نئے ابھرتے گروہ اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے عناصر ایک دوسرے سے بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گروہ غیر رسمی اور منافع بخش شعبوں جیسے گارمنٹس ویسٹ ٹریڈنگ، کچرا ٹھیکے، کیبل اور انٹرنیٹ سروسز، ٹرانسپورٹ بھتہ، مویشی منڈیاں، تعمیراتی منصوبے اور مقامی پروٹیکشن ریکٹس سے بھتہ وصول کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ڈھاکہ یونیورسٹی کیمپس میں نوجوان کانٹینٹ کریئیٹر قتل
حکام کے مطابق کئی اہم مجرم بیرون ملک بیٹھ کر اپنے نیٹ ورکس چلا رہے ہیں اور آن لائن رابطوں کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ اور حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ کچھ مجرم ضمانت پر رہائی کے بعد ملک چھوڑ گئے جبکہ بعض اب بھی بیرون ملک سے سرگرم ہیں۔
سیکیورٹی اداروں نے یہ بھی بتایا ہے کہ معاشی طور پر کمزور اور بے روزگار نوجوانوں کو رقم کے عوض حملوں کے لیے بھرتی کیا جا رہا ہے۔ بھتہ خوری کے لیے اب غیر ملکی نمبروں سے دھمکیاں دی جاتی ہیں اور انکار کی صورت میں فائرنگ یا کاروبار بند کرانے جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سیاسی سرپرستی اور کمزور قانون نافذ کرنے کی وجہ سے یہ نیٹ ورکس دوبارہ مضبوط ہو رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائیاں جاری ہیں، تاہم سرحد پار نیٹ ورکس اور ضمانت پر موجود مجرموں کی نگرانی بڑا چیلنج ہے۔
شہریوں میں بڑھتے ہوئے خوف کے باعث کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر منظم جرائم کے نیٹ ورکس کو نہ توڑا گیا تو ڈھاکہ دوبارہ طویل غیر یقینی اور تشدد کے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔














