اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم کے تحت ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کے فیصلے کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔
سرکاری ملکیتی کمپنی نیشنل گرڈ کمپنی کی جانب سے دائر درخواست پر عدالت نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے جواب طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کے دوران سیکریٹری کابینہ ڈویژن کے ذریعے وفاق اور وزارت قانون و انصاف سے جواب طلب کیا۔
کمپنی کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے مؤقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن نے تنخواہوں میں کٹوتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جو کفایت شعاری مہم کا حصہ ہے۔
وکیل کے مطابق یہ مہم امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں شروع کی گئی تھی، تاہم وزیراعظم کی ہدایات سرکاری محکموں پر تو لاگو ہو سکتی ہیں مگر سرکاری ملکیتی کمپنیوں پر نہیں۔
انہوں نے کہاکہ سرکاری محکموں کو کمپنیوں میں تبدیل کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ ان کے روزمرہ امور میں حکومتی مداخلت کم ہو۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 14 مارچ کے نوٹیفکیشن میں تنخواہوں میں کٹوتی کو لازمی قرار دیا گیا، جبکہ درخواست گزار کمپنی کمپنیز قانون کے تحت رجسٹرڈ ادارہ ہے، حکومتی محکمہ نہیں۔
عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کرلیا ہے۔














