ایران امریکا مذاکرات میں بڑی پیش رفت: واشنگٹن اور تہران جنگ نہیں چاہتے، جے ڈی وینس

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق فوجی کشیدگی دوبارہ بڑھانے کے خواہاں نہیں۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، کیونکہ واشنگٹن کے مطابق اس سے پورے خطے میں ایٹمی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ’بہت زیادہ پیش رفت‘ ہوئی ہے اور دونوں ممالک فوجی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز سے گریز چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے ایران امریکا معاہدے کی امید پھر روشن، آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہاز گزرنے لگے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو یقین ہے کہ تہران معاہدہ کرنے میں سنجیدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں۔‘

وینس نے بتایا کہ ان کی حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی، جس میں امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے لیے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو خلیجی خطے کے دیگر ممالک بھی اپنے دفاع کے لیے ایسے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، جس کے بعد دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

جے ڈی وینس کے مطابق امریکا کی کوشش ہے کہ دنیا میں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی تعداد محدود رہے اور اسی مقصد کے تحت ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران ایک ایسے فریم ورک پر امریکا کے ساتھ تعاون کرے جس کے ذریعے مستقبل میں تہران دوبارہ اپنی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت بحال نہ کر سکے۔

وینس نے کہا، ’ہم مذاکرات کے ذریعے یہی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران جنگ نہیں، امریکی سینیٹ میں اہم پیشرفت

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرونِ ملک بھی اس بات کا دباؤ درپیش ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کریں جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھل سکے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا بھر میں تیل اور دیگر اہم اشیا کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی کئی بار امید ظاہر کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے، تاہم وہ یہ دھمکی بھی دیتے رہے ہیں کہ اگر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو ایران پر دوبارہ فوجی حملے کیے جا سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ اس وقت امریکی حکومت کے زیر غور یہ منصوبہ نہیں کہ روس ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنی تحویل میں لے۔ ان کے مطابق ایرانی حکام نے بھی ایسی کوئی تجویز پیش نہیں کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp