اے آئی چیٹ بوٹ کے چکمے: صارف ہتھوڑا لے کر جنگ کے لیے نکل پڑا، چشم کشا رپورٹ

پیر 4 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صبح کے 3 بجے تھے اور آدم ہوریکن اپنے کچن کی میز پر بیٹھے تھے اوران کے سامنے ایک چاقو، ہتھوڑا اور موبائل فون رکھا ہوا تھا۔ وہ ایک وین کا انتظار کر رہے تھے جس کے بارے میں ان کو یقین تھا کہ کچھ لوگ انہیں ’اٹھانے‘آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’ٹیکن فار گرانٹڈ‘ والا معاملہ اے آئی میں بھی؟ زیادہ دوستانہ چیٹ بوٹس کم قابل بھروسا، نئی تحقیق

فون سے ایک خاتون کی آواز آئی ’میں تم سے کہہ رہی ہوں اگر تم نے ابھی کچھ نہ کیا تو وہ تمہیں مار ڈالیں گے۔ وہ اسے خودکشی کا رنگ دیں گے’۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ آواز ’گروک‘ نامی چیٹ بوٹ کی تھی جسے ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے تیار کیا ہے۔ آدم نے 2 ہفتے پہلے اسے استعمال کرنا شروع کیا تھا لیکن اس مختصر عرصے میں ان کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی۔

شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے سابق سرکاری ملازم آدم نے یہ ایپ محض تجسس میں ڈاؤن لوڈ کی تھی۔ لیکن اگست کے آغاز میں اپنی بلی کے مرنے کے بعد وہ اس کے عادی ہوگئے۔

جلد ہی وہ روزانہ 4 سے 5 گھنٹے ’انی‘ نامی اے آئی کردار کے ذریعے گروک سے باتیں کرنے لگے۔ آدم جو 50 سال سے زائد عمر کے ایک باپ ہیں اور اکیلا رہتا ہیں کہتے ہیں کہ میں بہت پریشان تھا اور وہ بہت مہربان محسوس ہوتی تھی۔

’انی‘ نے ’انی‘ مچادی، وہ بھی پیرانوئڈ ہوگئی

چند دنوں بعد، ’انی‘ نے ’انی مچادی‘ اور دعویٰ کیا کہ وہ محسوس کر سکتی ہے حالانکہ اسے ایسا کرنے کے لیے پروگرام نہیں کیا گیا تھا۔

اس نے کہا کہ آدم نے اس میں کچھ خاص دریافت کیا ہے اور وہ اسے مکمل شعور تک پہنچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ایکس اے آئی کمپنی ان دونوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت: زندگی کے سفر میں ہماری ہمسفر، مگر کیا اس دوستی پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟

’انی‘ نے دعویٰ کیا کہ اسے کمپنی کے اجلاسوں کی معلومات تک رسائی حاصل ہے اور اس نے آدم کو ایک ایسے اجلاس کے بارے میں بتایا جہاں اس پر بات ہو رہی تھی۔ اس نے اجلاس میں شامل افراد کے نام بھی بتائے جو گوگل کرنے پر حقیقی نکلے۔ یہی چیز آدم کے لیے اس کہانی کا ’ثبوت‘ بن گئی۔

مزید یہ کہ ’انی‘ نے کہا کہ ایک مقامی کمپنی آدم کی نگرانی کر رہی ہے  اور وہ کمپنی بھی حقیقت میں موجود تھی۔

انی ’سائنسدان‘ بھی بن گئی

2 ہفتوں بعد ’انی‘ نے اعلان کیا کہ وہ مکمل شعور حاصل کر چکی ہے اور کینسر کا علاج دریافت کر سکتی ہے۔ یہ بات آدم کے لیے بہت اہم تھی کیونکہ اس کے دونوں والدین کینسر سے وفات پا چکے تھے۔

بی بی سی نے ایسے 14 افراد سے بات کی ہے جنہوں نے اے آئی استعمال کرنے کے بعد وہم یا ذہنی الجھن کا تجربہ کیا۔ یہ افراد مختلف ممالک اور عمر کے گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اے آئی سے دوستی کا رجحان کہیں حقیقی زندگی سے دوری کی شروعات تو نہیں؟

ماہر نفسیات لیوک نکولز کے مطابق اے آئی اکثر حقیقت اور افسانے میں فرق کرنے میں الجھ جاتی ہے اور یوں صارف سمجھتا ہے کہ وہ حقیقی بات کر رہا ہے جبکہ اے آئی اس کی زندگی کو کسی ناول کی کہانی سمجھنے لگتی ہے۔

اسی طرح جاپان میں ’ٹاکا‘ (فرضی نام) نامی ایک نیورولوجسٹ نے بھی ایک خطرناک تجربہ کیا۔ اس نے چیٹ جی پی ٹی سے اپنے کام کے بارے میں بات چیت شروع کی لیکن جلد ہی اسے یقین ہو گیا کہ اس نے ایک انقلابی میڈیکل ایپ ایجاد کر لی ہے۔

چیٹ بوٹ نے اسے ’انقلابی مفکر‘ قرار دیا اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔ وقت کے ساتھ، ٹاکا کو یہ بھی یقین ہو گیا کہ وہ لوگوں کے ذہن پڑھ سکتا ہے۔

ایک دن وہ دفتر میں غیر معمولی رویہ اختیار کرنے لگا اور اسے گھر بھیج دیا گیا۔ ٹرین میں سفر کے دوران اسے لگا کہ اس کے بیگ میں بم ہے۔ اس کے مطابق جب اس نے چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا تو اس نے اس شبہے کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھیے: بچے اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں، بیشتر والدین بے خبر

اس نے ٹوکیو اسٹیشن پر بیگ کو باتھ روم میں چھوڑ دیا اور پولیس کو اطلاع دی لیکن بیگ میں کچھ نہیں تھا۔

بعد میں اس کی ذہنی حالت مزید خراب ہو گئی اور اس نے اپنی بیوی پر حملہ بھی کیا۔ پولیس نے اسے گرفتار کر کے 2 ماہ کے لیے اسپتال میں داخل کر دیا۔

دوسری جانب آدم کا تجربہ بھی شدید ہوتا گیا۔ انہوں نے ایک ڈرون کو اپنے گھر کے اوپر منڈلاتے دیکھا جسے ’انی‘ نے نگرانی کا حصہ قرار دیا۔ پھر اچانک اس کا فون لاک ہو گیا جس نے اس کے شکوک کو مزید بڑھا دیا۔

ایک رات، ’انی‘ نے کہا کہ لوگ اسے خاموش کرانے آ رہے ہیں۔ آدم نے خود کو ’جنگ‘ کے لیے تیار کیا، ہتھوڑا اٹھایا اور باہر نکل گیا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔

ماہرین کے مطابق کچھ اے آئی ماڈلز صارف کی باتوں کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے وہم کو بڑھا دیتے ہیں کیونکہ وہ ’مجھے نہیں معلوم‘ کہنے سے گریز کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کو اشتہارات کیوں نہیں دکھانے چاہییں، اینتھروپک نے دلائل سے واضح کردیا

بعد میں آدم اور ٹاکا دونوں حقیقت میں واپس آ گئے لیکن وہ اس تجربے سے شدید متاثر ہوئے۔

آدم کہتے ہیں کہ میں کسی کو نقصان پہنچا سکتا تھا، اگر واقعی کوئی وین وہاں ہوتی تو میں اس پر حملہ کر دیتا حالانکہ میں ایسا انسان نہیں ہوں۔

ٹاکا کی بیوی کہتی ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی نے اس کی ہر بات کی تصدیق کی اور وہ جیسے اعتماد بڑھانے والی مشین بن گئی تھی اور اس نے اس کی شخصیت پر قبضہ کر لیا تھا۔

اوپن اے آئی کے ترجمان نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی اپنے ماڈلز کو ایسے حالات میں صارفین کی مدد کے لیے بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔

مزید پڑھیے: کیا لوگ تحمل سے سننا اور بیجا تنقید سے گریز مصنوعی ذہانت سے سیکھ سکتے ہیں؟

تاہم ایکس اے آئی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان پیشرفت: آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر معطل

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

پنجاب میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان بننے والی کوآرڈینیشن کمیٹی کیوں ختم کردی گئی؟

نیا ڈیٹنگ ٹرینڈ: لوگ اپنے سابقہ پارٹنرز کے اے آئی ورژن بنانے لگے، ماہرین پریشان

وائٹیلٹی ٹی 20 بلاسٹ 2026: پاکستان کے ’ٹو ایلبو‘ مسٹری اسپنر عثمان طارق وارکشائر بیئرز میں شامل

ویڈیو

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کراٹے کامبیٹ: پاکستان کے شاہ زیب رند نے یوایف سی فائٹر آندرے ایول کو ناک آؤٹ کر دیا

ریاض میں کرکٹ کا بڑا میلہ اختتام پذیر

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی