وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات مسترد کردیے۔
افغان طالبان کے ترجمان حمدالله فطرت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے کنڑ میں شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
وزارت اطلاعات کے مطابق یہ بیانیہ اس وقت سامنے آیا جب افغان سرزمین سے ہونے والی سرحد پار فائرنگ کے نتیجے میں باجوڑ ضلع میں شہری جانی نقصان ہوا، جس میں 9 معصوم خواتین اور بچوں کی شہادت شامل ہے، جس پر مقامی سطح پر شدید مذمت سامنے آئی۔
🔎 𝐅𝐚𝐜𝐭 𝐂𝐡𝐞𝐜𝐤 | 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐫𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 & 𝐁𝐫𝐨𝐚𝐝𝐜𝐚𝐬𝐭𝐢𝐧𝐠
🟠 Claim:
Hamdullah Fitratحمدالله فطرت alleged Pakistani forces targeted civilians and infrastructure in Kunar.✅ Reality:
◼️ The narrative emerged after cross-border firing… pic.twitter.com/dDMy1a73vh
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) May 4, 2026
بیان میں کہا گیا ہے کہ باجوڑ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں منظرِ عام پر لائے گئے شواہد نے افغان حکومت کی لاپرواہ اور شرمناک کارروائیوں کو بے نقاب کیا۔ یہ واقعہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کی دراندازی کی ناکام کوششوں کو بار بار ناکام بنانے کے بعد پیش آیا۔
وزارت اطلاعات کے مطابق افغان دعوے کے ساتھ جو تصاویر گردش کر رہی ہیں وہ توپ خانے کے حملے سے مطابقت نہیں رکھتیں (چھتیں مکمل حالت میں، محدود نوعیت کا نقصان)، اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ نقصان منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے اس الزام کی ٹائمنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ ایک پروپیگنڈا مہم ہے، جو پاکستان کی جانب سے ناقابلِ تردید شواہد جاری کیے جانے اور وسیع عوامی مذمت کے بعد سامنے آئی۔














