ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی

منگل 5 مئی 2026
author image

ثنا ارشد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں رہتے ہوئے مارگلہ ٹریلز جیسے دلفریب مقامات سے دور رہنا حقیقتاً بدنصیبی کے مترادف ہے۔ یہ وہ پگڈنڈیاں ہیں جہاں ہم صرف چلتے نہیں بلکہ خود سے ملتے ہیں۔ شہر کے شور شرابے، ذمہ داریوں کے بوجھ اور ذہنی کلفتوں سے نکل کر جب ان راستوں پر قدم رکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے زندگی پھر سے سانس لینے لگی ہو۔

مدت ہوئی بے ہنگم مصروفیات نے مجھے ان جاں فزا لمحوں سے دور رکھا ہوا تھا، مگر جیسے ہی فرصت کا ان دیکھا دروازہ کھلا، بنا تامل اس مانوس راستے کی طرف چل پڑی۔ دل میں عجب سی بے چینی بھی تھی اور ایک پھلجھڑی سی خوشی بھی، جیسے کسی بچھڑے ہوئے دوست سے ملاقات ہونے والی ہو۔ آخر کیوں نہ ہوتی، ان راستوں اور ان جگہوں سے کئی یادیں جو وابستہ ہیں۔

وہاں پہنچی تو پہلا منظر ہی چونکا دینے والا تھا۔ پارکنگ گاڑیوں سے بھری ہوئی تھی، جیسے ہر کوئی سکون کی تلاش میں یہاں آن پہنچا ہو۔ کچھ دیر انتظار کے بعد جب آگے بڑھی تو دل میں ایک امید تھی کہ ہجوم پیچھے رہ جائے گا اور آگے وہی خاموشی، وہی فطرت کی بانہیں میرا استقبال کریں گی، مگر ایسا نہ ہوا اور میری خوش فہمی جلد ہی ٹوٹنے لگی۔

پانی کی وہ مدھم آواز جو کبھی دل کے اندر تک اتر جاتی تھی اب کہیں گم ہو چکی تھی۔ خشک پتھریلے راستے اور انسانی شور یہ سب مل کر ایک اجنبیت کا احساس پیدا کر رہے تھے۔ دل میں ہلکی سی مایوسی نے سر اٹھایا جیسے کوئی خوبصورت خواب حقیقت کی دھول میں مدھم پڑ گیا ہو۔

راستہ تو وہی تھا مگر احساس بدل چکا تھا۔ جہاں کبھی ہوا کی سرسراہٹ اٹکھیلیاں کرتی تھیں، وہاں اب آوازوں کا ہجوم تھا۔ پانی کی وہ سرگوشیاں، جو کبھی دل کے اندر تک اتر جاتی تھی، اب کہیں گم ہو چکی تھی۔ پتھریلے راستے اور انسانی شور، یہ سب مل کر ایک اجنبیت کا احساس پیدا کر رہے تھے۔ دل میں ہلکی سی مایوسی نے سر اٹھایا، جیسے کوئی خوبصورت خواب حقیقت کی دھول میں تعبیر سے محروم رہ گیا ہو۔

اداسی کے دوراہے پر اچانک چڑیوں کی چہچہاہٹ نے دل کو چونکا دیا۔ وہ آوازیں جیسے کسی اور ہی دنیا سے آ رہی تھیں۔ یوں محسوس ہوا جیسے قدرت خود کہہ رہی ہو: ’رک جاؤ، محسوس کرو، ابھی سب ختم نہیں ہوا۔‘ میں نے اس لمحے کو محسوس کرنا چاہا، مگر قریب ہی کچھ نوجوانوں کے موبائل سے بلند آواز میں گانے گونجنے لگے۔ وہ اپنی دنیا میں مگن تھے، اور مجھے یہ سب اس مقدس خاموشی میں گناہِ کبیرہ جیسا محسوس ہو رہا تھا۔

کچھ لوگ اس تیزی سے چل رہے تھے کہ زمین پر پڑتے قدموں کی دھمک ٹاپوں کا گمان دلا رہی تھی۔ چند قدم آگے بڑھی تو کچھ لوگ سگریٹ نوشی کرتے دکھائی دیے، حالانکہ ممانعت واضح طور پر درج تھی۔ یہ دیکھ کر دل مزید بوجھل ہو گیا۔ یوں لگا جیسے ہم خوبصورتی کو سراہنے کے باوجود اس کی قدر کرنا نہیں سیکھ پائے۔

اسی کشمکش میں چلتے ہوئے ایک اور خیال نے جنم لیا: کیا واقعی سب کچھ بدل گیا ہے، یا میں صرف منفی پہلوؤں پر ٹھہر گئی ہوں؟ جیسے ہی یہ سوچ دل میں ترازو ہوئی، منظر خود بخود بدلنے لگے۔

اب وہی راستہ کچھ اور کہانیاں سنانے لگا۔ ایک بزرگ جوڑا آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہا تھا۔ ان کے چہروں پر سکون تھا، جیسے وہ اس لمحے میں جی رہے ہوں۔ کچھ فاصلے پر ایک ماں اپنے خصوصی بچے کا ہاتھ تھامے نہایت پیار سے اسے اردگرد کی دنیا سے روشناس کرا رہی تھی۔ یہ منظر دل کو چھو گیا اور ایک خاموش سی خوشی اندر تک اترتی چلی گئی۔

اسی لمحے احساس ہوا کہ خوبصورتی ہمیشہ موجود ہوتی ہے، بس اسے دیکھنے کے لیے نظر چاہیے۔ منفی چیزیں اپنی جگہ، مگر مثبت پہلو بھی کم نہیں ہوتے۔

درختوں کی جھکی ہوئی شاخیں ایک دوسرے کا سہارا بن کر راستے پر سائبانی کیے ہوئے تھیں۔ ان کے بیچ چلتے ہوئے یوں لگ رہا تھا جیسے فطرت نے ایک محفوظ حصار بنا دیا ہو۔ میں انہی شاخوں کے حسن میں کھوئی ہوئی تھی کہ اچانک پاؤں پھسلا، مگر یوں لگا جیسے انہی شاخوں نے مجھے تھام لیا ہو۔ جیسے قدرت خود سہارا دے رہی ہو کہ گرنے نہیں دے گی۔

اس لمحے ایک گہرا اور کلبلاتا احساس دل کی تہوں میں اتر گیا کہ زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ہم چلتے چلتے کہیں پھسل جاتے ہیں، ڈگمگا جاتے ہیں، اور ایک لمحے کو لگتا ہے کہ اب سنبھلنا شاید ممکن نہ ہو، مگر عین اسی وقت کوئی ان دیکھا سہارا ہمیں تھام لیتا ہے۔ ایسا سہارا جسے نہ ہم دیکھ سکتے ہیں اور نہ مکمل طور پر سمجھ سکتے ہیں، مگر وہ ہوتا ضرور ہے۔

یہی احساس دل کو ماضی کی گلیوں میں لے گیا۔ وہی راستے، وہی لمحے، جب کچھ لوگ ساتھ تھے۔ وہ دوست جن کے ساتھ ہنسی وجہ، بے وجہ تھی، چلنا آسان تھا اور زندگی جیسے بالکل ہلکی پھلکی لگتی تھی۔ ان کے سہارے سچے اور مضبوط لگتے تھے، مگر وقت نے آہستہ آہستہ یہ سکھا دیا کہ دنیا کے سب سہارے بدل جاتے ہیں، بکھر جاتے ہیں یا پیچھے رہ جاتے ہیں۔

اور پھر ایک سچ دل میں پوری شدت سے ابھرا کہ اصل سہارا تو وہی ہے جو کبھی نہیں بدلتا، جو کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا، جو ہر بار گرنے پر سنبھالتا ہے، ہر خاموشی میں سنتا ہے اور ہر اندھیرے میں روشنی بن جاتا ہے۔ چاہے ہم اسے یاد کریں یا نہ کریں، وہ ہمیں کبھی نظر انداز نہیں کرتا۔

واپسی کے وقت دل میں مسرور کن احساس تھا، آنکھوں میں نمی بھی، مگر ساتھ ساتھ راحت اور ٹھہراؤ بھی۔ اب وہی راستے اور وہی درخت پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت اور سرسبز لگ رہے تھے، شاید اس لیے کہ اس بار میں صرف دیکھ نہیں رہی تھی بلکہ ان لمحوں کو جی رہی تھی۔

انہی سرشار لمحات میں دل نے فیصلہ کیا کہ میں دوبارہ آؤں گی۔ نہ صرف اس راستے پر بلکہ اپنے اندر کی پگڈنڈیوں پر بھی، جہاں میں خود سے مل سکوں اور یہ یقین کر سکوں کہ میں تنہا ہوں اکیلی نہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیا ڈیٹنگ ٹرینڈ: لوگ اپنے سابقہ پارٹنرز کے اے آئی ورژن بنانے لگے، ماہرین پریشان

وائٹیلٹی ٹی 20 بلاسٹ 2026: پاکستان کے ’ٹو ایلبو‘ مسٹری اسپنر عثمان طارق وارکشائر بیئرز میں شامل

بھارت: جالندھر میں بی ایس ایف ہیڈکوارٹر کے باہر زور دار دھماکا

یو اے ای کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، اسحاق ڈار کی ڈرون اور میزائل حملوں کی مذمت

ملک بھر میں 20 ہزار ایچ آئی وی مریض ’لاپتا‘، 8 لاکھ ڈالر کی طبی امداد غائب

ویڈیو

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کراٹے کامبیٹ: پاکستان کے شاہ زیب رند نے یوایف سی فائٹر آندرے ایول کو ناک آؤٹ کر دیا

ریاض میں کرکٹ کا بڑا میلہ اختتام پذیر

کالم / تجزیہ

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

امیر ملکوں میں رودالی کلچرکا احیا

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟