ملک بھر میں 20 ہزار ایچ آئی وی مریض ’لاپتا‘، 8 لاکھ ڈالر کی طبی امداد غائب

منگل 5 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایچ آئی وی اور ایڈز کے علاج کے لیے قائم اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (اے آر ٹی) مراکز سے علاج شروع کرنے والے تقریباً 20 ہزار مریض اب ’لاپتا‘ ہو چکے ہیں جس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر میں ایچ آئی وی تیزی سے پھیلنے لگا، ماہرین صحت نے خطرے کی گھنٹی بجادی

یہ بات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں جس کی صدارت رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے کی۔

اجلاس میں ملک میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزارت صحت نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت اندازاً 3 لاکھ 69 ہزار افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں تاہم صرف 84 ہزار کیسز رجسٹرڈ ہیں جو تشخیص میں بڑے خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔

کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ رجسٹرڈ مریضوں میں سے تقریباً 20 ہزار ایسے ہیں جنہوں نے علاج شروع تو کیا مگر بعد میں فالو اپ سے غائب ہو گئے۔ اس صورتحال نے مریضوں کی مسلسل نگرانی، رہنمائی اور علاج کے تسلسل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

وزارت کے مطابق ان مسائل کے حل کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں وزارت صحت کی جانب سے ان کیمرا بریفنگ کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ کمیٹی ارکان کا مؤقف تھا کہ یہ ایک اہم عوامی مسئلہ ہے جس پر شفافیت ضروری ہے۔

مزید پڑھیے: ایچ آئی وی سے بچاؤ کی ویکسین منظور، گولیوں کی جگہ اس کے استعمال سے پردہ داری زیادہ ممکن

ارکان نے کہا کہ ایڈز کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اس لیے میڈیا اور عوام کو حقائق سے آگاہ رکھنا چاہیے۔

وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال ایچ آئی وی یا ایڈز کا کوئی نیا بڑا پھیلاؤ سامنے نہیں آیا تاہم ماضی کے کیسز سے متعلق معلومات کھلے عام شیئر کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کو چھپانا ایک مجرمانہ عمل ہوگا۔

وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی پروگرامز کا بڑا حصہ عالمی ادارے گلوبل فنڈ کے تعاون سے چل رہا ہے جس کے تحت 3 سالہ مدت کے لیے 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی فنڈنگ فراہم کی گئی ہے۔

8 لاکھ ڈالر کی ادویات، سرنجیں چوری

اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملک میں تقریباً 8 لاکھ ڈالر مالیت کی طبی امداد چوری ہو گئی جبکہ ممنوعہ سرنجز کی مارکیٹ میں دستیابی، بلڈ بینکس کی کمزور نگرانی اور عوامی آگاہی کی کمی جیسے مسائل بھی سامنے آئے۔

کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگرچہ پاکستان میں ایچ آئی وی کی شرح عالمی اوسط سے کم ہے تاہم تونسہ، کوٹ مومن اور جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں سامنے آنے والے کیسز انفیکشن کنٹرول میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چہرے کی خوبصورتی کے لیے کاسمیٹک ٹریٹمنٹ کرانے والی 3 خواتین میں ایچ آئی وی منتقلی کی تصدیق

ماہرین نے بھی حالیہ دنوں میں خبردار کیا ہے کہ بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیا ڈیٹنگ ٹرینڈ: لوگ اپنے سابقہ پارٹنرز کے اے آئی ورژن بنانے لگے، ماہرین پریشان

وائٹیلٹی ٹی 20 بلاسٹ 2026: پاکستان کے ’ٹو ایلبو‘ مسٹری اسپنر عثمان طارق وارکشائر بیئرز میں شامل

بھارت: جالندھر میں بی ایس ایف ہیڈکوارٹر کے باہر زور دار دھماکا

یو اے ای کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، اسحاق ڈار کی ڈرون اور میزائل حملوں کی مذمت

انسانی ہمدردی کی مثال: پاک بحریہ نے بحیرہ عرب میں امدادی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی جہاز کے عملے کو بچا لیا

ویڈیو

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کراٹے کامبیٹ: پاکستان کے شاہ زیب رند نے یوایف سی فائٹر آندرے ایول کو ناک آؤٹ کر دیا

ریاض میں کرکٹ کا بڑا میلہ اختتام پذیر

کالم / تجزیہ

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی

امیر ملکوں میں رودالی کلچرکا احیا