بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

منگل 5 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حالیہ عرصے میں بڑے پیمانے کی کارروائیوں کے بجائے چھوٹے، محدود اور بعض اوقات مبینہ طور پر اسٹیجڈ حملوں کی حکمت عملی اپنائی ہے، جن کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا کے لیے ہائی ڈیفینیشن ویڈیوز اور تاثر پیدا کرنا بتایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی: سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت 4 دہشتگرد ہلاک

تجزیہ کاروں کے مطابق 30 اور 31 مارچ 2026 کی درمیانی شب مختلف مقامات پر بیک وقت کارروائیوں کی کوشش کی گئی، تاہم بیشتر حملے ناکام رہے۔ لیپ پاس ریڈار سائٹ پر حملہ ناکام بنایا گیا، مستونگ میں بارودی مواد قبل از وقت پھٹ گیا، منگوچر میں 2 حملہ آور ہلاک ہوئے جبکہ ژوب میں ایک دہشتگرد مارا گیا۔ اس کے باوجود بی ایل اے سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ان کارروائیوں کو بڑے آپریشنز کے طور پر پیش کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق زمینی حقائق اس تاثر سے مختلف ہیں۔ بی ایل اے کی سرگرمیاں صوبہ بلوچستان کے محدود علاقوں تک سمٹ کر رہ گئی ہیں، جہاں مجموعی آبادی کے مقابلے میں ایک چھوٹے حصے پر ہی اثر دیکھا جا رہا ہے۔

گزشتہ 2 برسوں کے دوران سیکیورٹی ذرائع کے مطابق متعدد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈالے، جبکہ اہم کمانڈرز جیسے گلزار امام شہباز، سرفراز بنگلزئی اور میر خان چاکڑ قومی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: بلوچ رہنما سردار یار محمد رند نے بی ایل اے کو زیر کرلیا، 5 مغوی بازیاب کرانے میں کامیاب

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنظیم کی زمینی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے، جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس کا بیانیہ اور شور زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ یعنی حقیقت کم ہے اور دکھایا زیادہ جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد ایم او یوکی تائید، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان، سعودی عرب، مصراور ترکیہ متحد، ریجنل۔4 اجلاس کا اعلامیہ جاری

ایران لبنان میں اپنی پراکسیز کو فوری روکے ورنہ سخت جواب دیں گے، صدر ٹرمپ کی وارننگ

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

لائیوپاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا سوئٹزرلینڈ میں آغاز

ویڈیو

اسلام آباد ایم او یوکی تائید، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان، سعودی عرب، مصراور ترکیہ متحد، ریجنل۔4 اجلاس کا اعلامیہ جاری

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟