فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکہ حق کا یاد گار سال مکمل ہونے پر قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کی ہے اور اسے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرصدارت کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
مزید پڑھیں: معرکہ حق: بھارت کے خلاف پاکستان کی شاندار فتح تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، عطا تارڑ
فیلڈ مارشل نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معرکہ حق قومی اتحاد، اجتماعی عزم اور پاکستان کی خودمختاری کی ہر قیمت پر تحفظ کے غیر متزلزل عہد کی عکاسی کرتا ہے۔
معرکہ حق کی یاد منانا بھارت کے لیے واضح پیغام، چیلنجز کے مدمقابل ’بنیان مرصوص‘ کی مانند متحد ہیں، کور کمانڈرز کانفرنس pic.twitter.com/4YXxS3jiC9
— WE News (@WENewsPk) May 5, 2026
انہوں نے کہاکہ معرکہ حق عوام، حکومت اور افواجِ پاکستان کے درمیان غیر متزلزل ہم آہنگی کی علامت ہے، جو تمام اندرونی و بیرونی چیلنجز کے مدِمقابل ’بنیان مرصوص‘ کی مانند یکجا کھڑے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کو کمانڈرز کانفرنس میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے معصوم شہریوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
فورم نے شہدا کی بے مثال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اعادہ کیاکہ شہدا کی لازوال قربانیاں ہمیشہ پاکستان کی قومی سلامتی، اتحاد اور استقامت کی بنیاد بنی رہیں گی۔
آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کی مسلح افواج کی تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں کمانڈرز اور فارمیشنزکے عزم، مستعدی اور کامیابی کو سراہا۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ دہشتگرد نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے، اُن کے معاون انفراسٹرکچر کی تباہی اور پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی شر انگیز کارروائی سے روکنے کے لیے موجودہ آپریشنل رفتار برقرار رکھی جائے گی۔
فورم نے آپریشن غضب للحق کے ذریعے دہشتگردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کی مسلسل تباہی کا احاطہ کیا۔
کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی غیر منطقی اور گمراہ کن پالیسی کے تحت خوارج اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
فورم نے کہاکہ افغان طالبان رجیم کی دہشتگردی کو سپورٹ افغان عوام کے مفادات کے مکمل برعکس ہے اور یہ رجیم اب اپنے عوام کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔
فورم کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایک مسلسل پروپیگنڈا کے تحت پاکستان پر افغانستان کے اندر شہریوں کو نشانہ بنا نے کا جھوٹا الزام لگایا جارہا ہے۔
فورم نے کہاکہ یہ گمراہ کن بیانیہ افغان طالبان رجیم کی ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اور خود کو مظلوم پیش کرنے کا ڈرامہ رچانا ہے۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ پاکستان ان بے بنیاد الزامات کو واضح طور پر مسترد کر تا ہے اور واضح کرتا ہے کہ ہماری دفاعی کارروائیاں صرف دراندازوں، دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور معان انفراسٹرکچر کے خلاف درست اہداف پر مبنی ہیں۔
فورم نے علاقائی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیاکہ ابھرتی ہوئی جیو پولیٹیکل پیشرفت علاقائی استحکام پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
کورکمانڈرز کانفرنس میں علاقائی کشیدگی سے بچاؤ اور تحمل اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ پاکستان مسلسل ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطے میں استحکام کے فروغ اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
فورم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن اور استحکام کا دارومدار باہمی تحمل، ذمہ داری اور خودمختاری کے احترام پر مبنی ہے۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ قومی سطح پر معرکہ حق کی یاد منانا بھارتی متکبرانہ سیاسی سوچ کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستانی قوم متحد، مضبوط اور ہر لحاظ سے مکمل طور پر تیار ہے۔
فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم، ماورائے عدالت قتل اور آبادیاتی تبدیلیوں کی شدید مذمت کی۔
فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیرکے عوام کی منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔
مزید پڑھیں: معرکہ حق کی کامیابی کا ایک سال، واہگہ بارڈر پر خصوصی تقریب میں افواج پاکستان کو خراج تحسین
کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ ابھرتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر مستعدی اور آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح کو برقرار رکھیں۔
آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزنے پیشہ ورانہ مہارت کے تسلسل، مربوط ردِعمل اور روایتی و غیر روایتی دونوں نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔














