قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے فوری طور پر خودکار طور پر ناکارہ ہو جانے والی سرنجوں کے نفاذ، غیر محفوظ طبی طریقوں کے خلاف سخت کارروائی سمیت ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے واضح اور وقت کے تعین کے ساتھ قومی ایکشن پلان کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ نے ملک میں ایچ آئی وی/ایڈز کے بڑھتے ہوئے رجحان کا سخت نوٹس لیا۔
کمیٹی نے پاکستان میں ایچ آئی وی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اس مسئلے کو فوری، حساس اور مربوط قومی اقدامات کا متقاضی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں میں ایڈز کے بڑھتے کیسز، سابق وزیر صحت نے طبی نظام پر سوالات اٹھا دیے
کمیٹی نے فوری طور پر آٹو ڈِس ایبل سرنجوں کے نفاذ، غیر محفوظ طبی طریقوں کے خلاف سخت کارروائی، بدنامی کے خاتمے کے لیے ملک گیر آگاہی مہمات، ضلع وار تفصیلی ڈیٹا کی فراہمی، اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے واضح اور وقت کے تعین کے ساتھ قومی ایکشن پلان وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔
وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ نے قومی اسمبلی کی صحت سے متعلق قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ملک میں اندازاً 3 لاکھ 69 ہزار افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ صرف 84 ہزار کیسز رجسٹرڈ ہیں، جو تشخیص میں ایک بڑے خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔
وزارت صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ اسکریننگ کی صلاحیت میں نمایاں اضافے کے باعث 2025 کے دوران ہی 14 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

واضح رہے کہ 2020 میں 37 ہزار ٹیسٹوں سے بڑھ کر 2025 میں 3 لاکھ 74 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
تاہم اراکین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بڑھتی ہوئی تشخیص کو بیماری پر قابو پانے کے مترادف نہ سمجھا جائے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 84 ہزار رجسٹرڈ مریضوں میں سے تقریباً 20 ہزار ایسے ہیں جو اے آر ٹی مراکز میں علاج شروع کرنے کے بعد اب لاپتا ہیں۔
مزید پڑھیں: ایڈز سے پاک پاکستان کے لیے متحد ہونا ہوگا، ایڈز کے عالمی دن پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام
جس سے فالو اپ، کونسلنگ اور مریضوں کو علاج سے جوڑے رکھنے کے نظام پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایک جامع ماسٹر پلان تیار کیا جا رہا ہے۔
کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی کی شرح 0.2 فیصد ہے، جو عالمی اوسط 0.5 فیصد سے کم ہے۔
مزید پڑھیں: خیبر میں ایچ آئی وی تیزی سے پھیلنے لگا، ماہرین صحت نے خطرے کی گھنٹی بجادی
تاہم تونسہ، کوٹ مومن اور جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں مقامی سطح پر پھیلاؤ انفیکشن کی روک تھام، غیر محفوظ طبی طریقوں اور کمزور عملدرآمد میں سنگین ناکامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
منتقلی کی ایک بڑی وجہ کی نشاندہی کرتے ہوئے وزارت صحت نے بتایا کہ گزشتہ سال کراچی کے ایک مقامی اسپتال میں پھیلنے والا مرض 10 سی سی سرنجوں کے استعمال سے منسلک تھا، جن پر پہلے پابندی نہیں تھی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمام قابلِ استعمال سرنجیں، بشمول 10 سی سی اقسام، مرحلہ وار ختم کر کے سخت ریگولیٹری کنٹرول میں لائی جائیں گی۔














