مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی توانائی ترسیل متاثر ہونے لگی، جس کے بعد پاکستان نے ہنگامی بنیادوں پر اضافی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کارگوز حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
مزید پڑھیں: بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم، ایل این جی کارگو آجانے سے حالات بہتر ہوگئے، اویس لغاری
ذرائع کے مطابق قطر انرجی نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے 2 طے شدہ ایل این جی کارگوز کو آبنائے ہرمز سے گزارنے میں ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے، جس کے بعد حکومتِ پاکستان نے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
نیشنل کرائسس مینجمنٹ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ایل این جی لمیٹیڈ (پی ایل ایل) کو ہدایت دی جائے کہ وہ اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگوز کے حصول کے لیے نئے ٹینڈر جاری کرے تاکہ گیس کی فراہمی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کے مطابق اسلام آباد قطر کے حکام سے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ معطل کارگوز کی ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جا سکے، تاہم خطے کی غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال کے باعث سپلائرز محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایل این جی کی آمد سے توانائی بحران میں ریلیف، پاکستان میں سپلائی بحال، قطر سے 4 کارگو کے حصول کی کوششیں تیز
یاد رہے کہ پی ایل ایل نے 23 اپریل کو ایک ٹینڈر جاری کیا تھا، جس کے تحت ٹوٹل انرجیز کو 18.4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے ایک کارگو دیا گیا۔ یہ کھیپ 30 اپریل کو ایل این جی جہاز کے ذریعے پورٹ قاسم پر واقع ٹرمینل پر پہنچ چکی ہے۔
سوئی نادرن گیس پائپ لائیز لمیٹیڈ کے مطابق ملک کو مئی کے دوران کم از کم 2 ایل این جی کارگوز کی ضرورت ہے تاکہ گیس کی طلب پوری کی جا سکے۔














