امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کا عندیہ ملنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل دوسرے روز بھی کم ہو گئیں، جس سے توانائی مارکیٹ میں بڑی تبدیلی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی کوششیں سے امریکا اور ایران کے درمیان پیشرفت: آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر معطل
رائٹرز کے مطابق عالمی منڈی میں بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی دوبارہ بحال ہو سکتی ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کی طرف اشارہ دیا۔
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 1.7 فیصد کمی کے ساتھ 107.98 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی 1.8 فیصد کمی کے بعد 100.44 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ اس سے ایک روز قبل بھی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے اور پھنسے ہوئے آئل ٹینکرز کے دوبارہ سفر شروع ہونے کی توقع نے مارکیٹ پر دباؤ کم کیا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ امن معاہدے کی امید بڑھ رہی ہے، لیکن مکمل سپلائی بحال ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے بحیرۂ ہرمز میں جہازوں کو راستہ دینے کے آپریشن کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بدستور برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران جنگ، پاکستان کی سفارتکاری جاری، اہم کامیابی مل گئی
دوسری جانب رپورٹ کے مطابق امریکا میں تیل کے ذخائر میں بھی مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر میں 8.1 ملین بیرل، پٹرول میں 6.1 ملین بیرل اور دیگر مصنوعات میں 4.6 ملین بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ ابھی بھی دباؤ کا شکار ہے۔














