اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ اپنی جعلی اور قابلِ اعتراض تصاویر پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ڈیپ فیکس کو ایک ’خطرناک ہتھیار‘ قرار دیا ہے جو کسی بھی فرد کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
وزیرِ اعظم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک جعلی تصویر شیئر کی جو حالیہ دنوں میں گردش کر رہی تھی اور جس میں انہیں نامناسب لباس میں دکھایا گیا تھا۔ میلونی نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ تصویر بنانے والے نے کم از کم انہیں حقیقت سے زیادہ بہتر دکھایا ہے۔
Girano in questi giorni diverse mie foto false, generate con l’intelligenza artificiale e spacciate per vere da qualche solerte oppositore.
Devo riconoscere che chi le ha realizzate, almeno nel caso in allegato, mi ha anche migliorata parecchio. Ma resta il fatto che, pur di… pic.twitter.com/or44qru2qj
— Giorgia Meloni (@GiorgiaMeloni) May 5, 2026
اپنے بیان میں انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیپ فیکس ٹیکنالوجی لوگوں کو دھوکا دینے، رائے عامہ کو متاثر کرنے اور افراد کو ہدف بنانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود اپنا دفاع کر سکتی ہیں تاہم بہت سے لوگ اس قابل نہیں ہوتے۔
انہوں نے عوام پر زور دیا کہ کسی بھی مواد پر یقین کرنے اور اسے آگے شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق ضرور کریں کیونکہ ایسا واقعہ کسی کے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’نو کنگز‘ احتجاج: ٹرمپ کے خلاف امریکا بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے
میلونی نے اپنی پوسٹ میں ایک سوشل میڈیا صارف کا ردعمل بھی شامل کیا، جو مبینہ طور پر جعلی تصویر سے متاثر ہو کر اسے حقیقی سمجھ بیٹھا تھا اور وزیرِ اعظم کے لباس کو ان کے عہدے کے منافی قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی میلونی اور دیگر بااثر خواتین کی جعلی اور جنسی نوعیت کی تصاویر آن لائن منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ گزشتہ برس بھی متعدد معروف خواتین کو اسی نوعیت کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی تبدیل شدہ تصاویر ایک فحش ویب سائٹ پر گردش کرتی رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی اطالوی وزیراعظم سے فلرٹ کی کوششیں، میلونی نے زبردستی ہاتھ چھڑا لیا، ویڈیوز وائرل
ان واقعات کے تناظر میں اطالوی حکومت نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت ایسے ڈیپ فیکس مواد کو جرم قرار دیا گیا ہے جو کسی فرد کو ’ناجائز نقصان‘ پہنچائے۔
میلونی نے 2024 میں دو افراد کے خلاف 100 ہزار یورو ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کیا تھا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ان کی جعلی ویڈیوز بنا کر ایک امریکی فحش ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں خواتین سیاستدانوں کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ فحش اور جعلی مواد کا بڑھتا ہوا سامنا ہے جس نے ڈیجیٹل تحفظ اور قوانین کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔














