امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران کی جانب سے شرائط نہ مانی گئیں تو مزید شدت سے حملے کریں گے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ اگر ایران نے معاہدے پر رضامندی ظاہر کردی تو آپریشن ایپک فیوری ختم ہو جائےگا، اور آبنائے ہرمز کو سب کے لیے کھول دیا جائےگا۔

صدر ٹرمپ نے کہاکہ اگر ایران معاہدے پر رضامند نہ ہوا تو دوبارہ ہونے والے حملے پہلے سے مزید شدید اور طاقتور ہوں گے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے میں پیشرفت کی خوشخبری سناتے ہوئے آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ روکنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی درخواست اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیشرفت کے بعد بحیرۂ ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جبکہ ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف مہم کے دوران امریکا کو ’بڑی فوجی کامیابی‘ حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔
دوسری جانب غیرملکی خبر ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، اور 14 نکاتی منصوبہ زیرغور ہے۔
رائٹرز نے امریکی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے اہم نکات پر جواب متوقع ہے۔
مجوزہ 14 نکاتی معاہدے کے تحت ایران جوہری افزودگی پر عارضی پابندی قبول کرے گا جبکہ امریکا اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور ایران کے منجمد اربوں ڈالر جاری کرنے پر آمادہ ہوگا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق پابندیاں بھی مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہونے کے قریب، 14 نکاتی یادداشت زیرِ غور
رپورٹ کے مطابق امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اور ایرانی حکام کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ مجوزہ معاہدے کے تحت جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد 30 دن کی مدت میں ایک تفصیلی اور حتمی معاہدے پر بات چیت کی جائے گی۔













