امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک صفحے پر مشتمل معاہدے (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) پر اتفاق کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ ثالثی کردار ادا کرنے والے پاکستان کے ایک ذریعے کے مطابق دونوں فریق حتمی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستانی کوششوں سے امریکا اور ایران کے درمیان پیشرفت: آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر معطل
رائٹرز نے امریکی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے اہم نکات پر جواب متوقع ہے۔
مجوزہ 14 نکاتی معاہدے کے تحت ایران جوہری افزودگی پر عارضی پابندی قبول کرے گا جبکہ امریکا اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور ایران کے منجمد اربوں ڈالر جاری کرنے پر آمادہ ہوگا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق پابندیاں بھی مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اور ایرانی حکام کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ مجوزہ معاہدے کے تحت جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد 30 دن کی مدت میں ایک تفصیلی اور حتمی معاہدے پر بات چیت کی جائے گی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پروجیکٹ فریڈم بحری مشن کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت بحال کرنا تھا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ مذاکرات میں نمایاں پیشرفت کے باعث اس مشن کو وقتی طور پر روکا گیا ہے تاکہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر سکے۔
مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق اچھی خبر جمعے تک سامنے آسکتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چین کے دورے کے دوران کسی ممکنہ معاہدے پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے ایک منصفانہ اور جامع معاہدے کی ضرورت پر زور دیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتکاری کی اہمیت اجاگر کی۔
یاد رہے کہ ایران نے فروری کے اختتام سے آبنائے ہرمز کو اپنی جہاز رانی کے علاوہ دیگر کے لیے بند کر رکھا ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ حالیہ دنوں میں اس علاقے میں کئی بحری جہازوں پر حملے بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے عالمی تجارت شدید متاثر ہوئی ہے۔













