ایران جنگ بندی کے امریکی منصوبے پر غور میں مصروف، اہم مطالبات بدستور حل طلب

جمعرات 7 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے جنگ بندی منصوبے پر غور شروع کردیا ہے، تاہم جوہری پروگرام کی معطلی اور آبنائے ہرمز کھولنے سمیت اہم امریکی مطالبات تاحال حل طلب ہیں۔

مزید پڑھیں: امن مذاکرات میں پیشرفت: ایران نے امریکا کے لیے نیا پروپوزل پاکستان کے حوالے کردیا

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ تہران جلد اپنی باضابطہ رائے سے آگاہ کرے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران معاہدے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں ایک مختصر یادداشت پر اتفاق رائے کے قریب پیشرفت ہوئی ہے، جس کے تحت جنگ کے باضابطہ خاتمے، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی، ایران پر عائد امریکی پابندیاں نرم کرنے اور ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات کا آغاز متوقع ہے۔

ایرانی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکی مسودے کو امریکی خواہشات کی فہرست قرار دیا، جبکہ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر امریکا کی پیشرفت کی خبروں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ آپ ہم پر یقین کریں آپریشن ناکام ہوگیا۔

مزید پڑھیں: ایران نے امریکا سے مذاکرات سے انکار کردیا

ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور برینٹ کروڈ ایک موقع پر قریباً 11 فیصد گر کر 98 ڈالر فی بیرل تک آگیا۔

دوسری جانب بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران سے افزودہ یورینیم مکمل طور پر ہٹایا جانا چاہیے تاکہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے، تاہم تہران نے ایک بار پھر جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش کی تردید کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp