اسلام آباد پولیس کی مؤثر کارروائیاں، ڈکیتی اور گاڑی چوری کے واقعات میں نمایاں کمی

جمعرات 7 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد پولیس نے رواں سال 2026 کے پہلے چار ماہ کے دوران جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی جرائم میں 36 فیصد جبکہ اپریل کے مہینے میں 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی زیرِ کمان اسلام آباد پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں، جن کے نتیجے میں رواں سال 2026 کے پہلے 4 ماہ کے دوران جرائم میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق سال 2025 کے مقابلے میں 2026 کے پہلے 4 ماہ میں مجموعی جرائم میں 36 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ صرف اپریل کے مہینے میں جرائم کی شرح میں 50 فیصد کمی دیکھی گئی۔

یہ بھی پڑھیے اسلام آباد پولیس کی کارروائیاں، جرائم پیشہ عناصر اور غیر قانونی مقیم افراد کے گرد گھیرا تنگ

ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا کے مطابق پولیس نے ڈکیتی، راہزنی، کار اور موٹر سائیکل چوری میں ملوث 192 گینگز کے 447 ارکان کو گرفتار کیا، جبکہ ملزمان سے 12 کروڑ روپے سے زائد مالِ مسروقہ بھی برآمد کیا گیا۔

پولیس اعداد و شمار کے مطابق رواں سال رابری کے کیسز میں بھی واضح کمی سامنے آئی۔ سال 2025 کے پہلے 4 ماہ میں رابری کے 98 زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ شاپ رابری کے واقعات میں بھی 33 کیسز کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ سال 2025 میں ایسے 129 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ رواں سال یہ تعداد کم ہو کر 92 رہ گئی۔

اسی طرح راہزنی اور موبائل فون چھیننے کے واقعات میں 185 کیسز کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ سال کے پہلے چار ماہ میں ایسے 377 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ رواں سال یہ تعداد 192 رہی۔

کار چوری کے واقعات میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ پولیس کے مطابق سال 2025 میں کار چوری کے 151 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ 2026 میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 34 رہ گئی۔

موٹر سائیکل چوری کے کیسز میں بھی خاطر خواہ کمی سامنے آئی۔ سال 2025 میں موٹر سائیکل چوری کے 1001 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ رواں سال یہ تعداد 642 رہی، جو 359 کیسز کی کمی ظاہر کرتی ہے۔

اسلام آباد پولیس نے رواں سال آٹھ سے زائد ہائی پروفائل مقدمات کو 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ٹریس کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ان کیسز میں معروف تاجر میاں عامر قتل کیس، تھانہ کورال رابری کے دوران اندھا قتل کیس، اور تھانہ کوہسار کی حدود میں اغوا کے بعد قتل کا مقدمہ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے سردار فہیم قتل کیس کے ملزمان کو اسلام آباد پولیس نے کیسے گرفتار کیا؟

قاضی علی رضا کے مطابق رواں سال 400 سے زائد اشتہاری اور سابقہ ریکارڈ یافتہ مجرمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔

شہریوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے اسلام آباد پولیس نے 400 سے زائد کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا، جبکہ جرائم کے انسداد اور امن و امان کے قیام کے لیے 685 سے زائد سرچ آپریشنز کیے گئے۔

ترجمان پولیس کے مطابق ریسکیو 15 پر موصول ہونے والی کالز پر بروقت کارروائی اور مقدمات کے اندراج کو بھی یقینی بنایا گیا، جبکہ ایف آئی آر رجسٹریشن کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی۔

ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور بروقت رسپانس کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، کیونکہ شہریوں کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp