پاکستان کی فشریز اور سی فوڈ برآمدات میں نمایاں اور تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار یہ برآمدات 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو روسی مارکیٹ تک رسائی، سی فوڈ ایکسپورٹ میں بڑی پیش رفت
حکومت نے رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ ہدف مقررہ وقت سے 46 روز قبل ہی حاصل کر لیا جسے ملکی معیشت اور برآمدی شعبے کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے مستقبل کے حوالے سے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی مجموعی سی فوڈ برآمدات جلد 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
مزید پڑھیے: پاکستان روس کی سی فوڈ مارکیٹ پہنچ گیا، 30 کروڑ ڈالر کی ابتدائی برآمدات کا امکان روشن
وفاقی وزیر نے اس تاریخی کامیابی پر ڈاکٹر منصور وسان کی سربراہی میں میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمے کی انتھک محنت اور بروقت اقدامات کی بدولت برآمدی اہداف وقت سے پہلے حاصل کرنا ممکن ہوا۔
برآمدات میں نمایاں اضافہ
جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جولائی سے دسمبر کے دوران فشریز برآمدات میں 21.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران منجمد مچھلی پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی کیٹیگری بن کر سامنے آئی۔
بڑی برآمدی مارکیٹس
چین بدستور پاکستانی سی فوڈ کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ اس کے علاوہ تھائی لینڈ، جاپان اور یورپی ممالک کو ہونے والی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
روس سمیت وسطی ایشیائی ممالک میں بھی پاکستانی سی فوڈ کی طلب میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے نئی تجارتی راہیں کھل رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں فوڈ سیفٹی کا نیا دور، پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا افتتاح کردیا گیا
وفاقی وزیر بحری امور نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ حکومت سی فوڈ انڈسٹری کو مزید جدید خطوط پر استوار کرنے اور برآمدات کا حجم بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی تاکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔









