ماہرین صحت کے مطابق دل کی دھڑکنوں کے درمیان وقفے میں ہونے والی باریک تبدیلیاں (جسے ہارٹ ریٹ ویری ایبلیٹی کہا جاتا ہے) اب انسانی صحت کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مستقبل کے کپڑے: دل کی دھڑکن، درجہ حرارت اور فون چارج ایک ساتھ
یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں نہ صرف جسمانی فٹنس بلکہ ذہنی دباؤ، ورزش کی صلاحیت اور حتیٰ کہ بڑھتی عمر کے اثرات کو بھی ظاہر کر سکتی ہیں۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق لندن میں مقیم 40 سالہ ہیلتھ ٹیک ماہر آرتم کریلوف کی مثال اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے جو پہلے بغیر آرام کیے مسلسل ورزش پر یقین رکھتے تھے۔ تاہم جب انہوں نے اسمارٹ واچ کے ذریعے ہارٹ ریٹ ویری ایبلیٹی کو ٹریک کرنا شروع کیا تو انہیں اندازہ ہوا کہ جسم کو آرام کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اب وہ اپنے اسکور کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ ورزش کرنی ہے یا آرام۔
ماہرین کے مطابق ہارٹ ریٹ ویری ایبلیٹی دل کی دھڑکن کی اوسط رفتار سے مختلف ایک زیادہ پیچیدہ پیمائش ہے جو دل کی دھڑکنوں کے درمیان وقفوں میں تبدیلی کو ملی سیکنڈز میں ناپتی ہے۔ عام طور پر زیادہ ویری ایبلیٹی کو بہتر صحت کی علامت سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ جسم مختلف حالات میں خود کو بہتر طریقے سے ایڈجسٹ کر سکتا ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق یہ پیمائش اس بات کا بھی اشارہ دیتی ہے کہ جسم کا اعصابی نظام ’اسٹریس موڈ‘ اور ’ریلیکس موڈ‘ کے درمیان کتنی بہتر توازن کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ جب انسان دباؤ میں ہوتا ہے تو دل کی دھڑکن تیز اور نسبتاً مستقل ہو جاتی ہے جبکہ آرام کی حالت میں اس میں قدرتی تبدیلیاں زیادہ ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیے: سونے سے پہلے کچھ کام چھوڑ دیں، دل محفوظ رہے گا
تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کم ہارٹ ریٹ ویری ایبلیٹی کا تعلق ذہنی دباؤ، اینگزائٹی اور ڈپریشن جیسے مسائل سے ہو سکتا ہے۔
بعض مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بہتر نیند، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے یہ اسکور بہتر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ایک مفید سائنسی پیمانہ ہے لیکن اسے اکیلا فیصلہ کن معیار نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر، وزن اور کولیسٹرول جیسے بنیادی اشاریے بھی زیادہ اہم ہیں۔
مزید پڑھیں: مچھلی کا گوشت دل و دماغ کے لیے بیحد مفید، مہینے میں کتنے دن کھانا چاہیے؟
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ لوگ اپنے جسم کے ردعمل کو بہتر سمجھ سکتے ہیں اور اپنے روزمرہ کے فیصلوں، ورزش اور آرام کے معمولات کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔













