جنگ کے باعث اردن کی سیاحت تباہی کے دہانے پر، پیٹرا میں سناٹا

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث اردن کی مشہور تاریخی سیاحتی مقام پیٹرا تقریباً ویران ہو چکی ہے، جہاں کبھی دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کا رش ہوتا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رواں برس فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز کے بعد سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اردن کی سیاحت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

روز سٹی کے نام سے مشہور پیٹرا میں اب معمول کے ہجوم کے بجائے تقریباً سناٹا ہے، اور زیادہ تر غیر ملکی سیاح غائب ہو چکے ہیں۔

یوکرین سے تعلق رکھنے والی سیاح روسلانا نوواک نے پیٹرا کے خالی مناظر دیکھتے ہوئے کہا کہ انہیں جنگ کے بارے میں علم ہے، مگر اردن نسبتاً پرامن اور محفوظ ملک ہے۔

تاہم مقامی تاجر اس صورتحال سے شدید پریشان ہیں، پیٹرا کے داخلی دروازے پر سووینئر بیچنے والے خالد السیدات کے نزدیک سیاحت کا تقریباً مکمل زوال ہو چکا ہے۔

ان کے مطابق غزہ کی جنگ کے بعد پہلے ہی سیاحت میں 80 سے 90 فیصد کمی آئی تھی، جبکہ ایران سے متعلق جنگ نے غیر ملکی سیاحوں کی آمد تقریباً صفر کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ روزانہ دکان کھولتے ہیں مگر آمدنی کا کوئی یقین نہیں ہوتا۔

اردن کی معیشت میں سیاحت کا حصہ تقریباً 14 فیصد ہے، جبکہ اس شعبے سے براہ راست 60 ہزار اور بالواسطہ 3 لاکھ افراد منسلک ہیں۔ گزشتہ سال ملک کو 7.8 ارب ڈالر کی آمدن ملی تھی۔

پیٹرا کے علاوہ اردن میں وادی رم، بحیرہ مردار اور قدیم شہر جرش جیسے اہم سیاحتی مقامات بھی موجود ہیں، مگر مجموعی طور پر تمام سیاحتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔

حکام کے مطابق سال کے آغاز میں سیاحوں کی آمد اچھی تھی، لیکن جنگ شروع ہوتے ہی صورتحال بدل گئی۔

 رواں برس مارچ اور اپریل میں پیٹرا آنے والے سیاحوں کی تعداد 28 ہزار سے 30 ہزار کے درمیان رہ گئی۔

کئی ہوٹلوں نے بکنگ کی شدید منسوخی کے باعث عارضی بندش پر غور شروع کر دیا ہے۔

اردنی حکومت نے مقامی سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ اقدام غیر ملکی سیاحوں کی کمی کا متبادل نہیں بن سکا۔

اسی دوران اردن کی فوج نے بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ملک کی فضائی حدود میں 281 ایرانی میزائل اور ڈرون داغے گئے جن میں سے بیشتر کو روک لیا گیا۔

سیاحت سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ انہیں اس سال بہترین سیزن کی امید تھی، لیکن اب صورتحال نے ان کے معاشی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں