امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث اردن کی مشہور تاریخی سیاحتی مقام پیٹرا تقریباً ویران ہو چکی ہے، جہاں کبھی دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کا رش ہوتا تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رواں برس فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز کے بعد سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اردن کی سیاحت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
روز سٹی کے نام سے مشہور پیٹرا میں اب معمول کے ہجوم کے بجائے تقریباً سناٹا ہے، اور زیادہ تر غیر ملکی سیاح غائب ہو چکے ہیں۔

یوکرین سے تعلق رکھنے والی سیاح روسلانا نوواک نے پیٹرا کے خالی مناظر دیکھتے ہوئے کہا کہ انہیں جنگ کے بارے میں علم ہے، مگر اردن نسبتاً پرامن اور محفوظ ملک ہے۔
تاہم مقامی تاجر اس صورتحال سے شدید پریشان ہیں، پیٹرا کے داخلی دروازے پر سووینئر بیچنے والے خالد السیدات کے نزدیک سیاحت کا تقریباً مکمل زوال ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق غزہ کی جنگ کے بعد پہلے ہی سیاحت میں 80 سے 90 فیصد کمی آئی تھی، جبکہ ایران سے متعلق جنگ نے غیر ملکی سیاحوں کی آمد تقریباً صفر کر دی ہے۔
Jordan's ancient marvel Petra deserted since Mideast war.
While "the war in Gaza had led to an 80 to 90 % drop in tourism", the Iran conflict reduced the number of visitors to "almost zero", souvenir seller Saidat says. "We open every day without knowing whether we'll earn… pic.twitter.com/RSURQut2al
— AFP News Agency (@AFP) May 7, 2026
ان کا کہنا تھا کہ وہ روزانہ دکان کھولتے ہیں مگر آمدنی کا کوئی یقین نہیں ہوتا۔
اردن کی معیشت میں سیاحت کا حصہ تقریباً 14 فیصد ہے، جبکہ اس شعبے سے براہ راست 60 ہزار اور بالواسطہ 3 لاکھ افراد منسلک ہیں۔ گزشتہ سال ملک کو 7.8 ارب ڈالر کی آمدن ملی تھی۔
پیٹرا کے علاوہ اردن میں وادی رم، بحیرہ مردار اور قدیم شہر جرش جیسے اہم سیاحتی مقامات بھی موجود ہیں، مگر مجموعی طور پر تمام سیاحتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔

حکام کے مطابق سال کے آغاز میں سیاحوں کی آمد اچھی تھی، لیکن جنگ شروع ہوتے ہی صورتحال بدل گئی۔
رواں برس مارچ اور اپریل میں پیٹرا آنے والے سیاحوں کی تعداد 28 ہزار سے 30 ہزار کے درمیان رہ گئی۔
کئی ہوٹلوں نے بکنگ کی شدید منسوخی کے باعث عارضی بندش پر غور شروع کر دیا ہے۔

اردنی حکومت نے مقامی سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ اقدام غیر ملکی سیاحوں کی کمی کا متبادل نہیں بن سکا۔
اسی دوران اردن کی فوج نے بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ملک کی فضائی حدود میں 281 ایرانی میزائل اور ڈرون داغے گئے جن میں سے بیشتر کو روک لیا گیا۔
سیاحت سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ انہیں اس سال بہترین سیزن کی امید تھی، لیکن اب صورتحال نے ان کے معاشی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔














