لاہور ٹریفک پولیس نے ٹریفک وارڈنز کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم اور منفرد اقدام اٹھاتے ہوئے تمام فیلڈ ڈیوٹی انجام دینے والے وارڈنز کا نفسیاتی چیک اپ کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
حکام کے مطابق ماہرینِ نفسیات وارڈنز کے رویوں، ذہنی صحت، عوامی دباؤ کے اثرات اور روزمرہ فرائض کے دوران پیش آنے والے چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
مزید پڑھیں: لاہور: گاڑی روکنے پر وکلا کے ہاتھوں ٹریفک وارڈنز کی پٹائی، پرچہ درج، گرفتاریاں
یہ اقدام لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک وارڈنز کی کارکردگی اور ان کے ذاتی معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
حکام نے بتایا کہ وارڈنز سے فرضی صورتحال میں ردعمل سے متعلق سوالات پوچھے جائیں گے تاکہ ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت، صبر اور تناؤ برداشت کرنے کی حد کا اندازہ لگایا جا سکے۔
فیلڈ ڈیوٹی پر مامور وارڈنز کے شارٹ نفسیاتی ٹیسٹ لیے جائیں گے جبکہ ذہنی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کو بھی سائنسی انداز میں جانچا جائے گا۔
اس سلسلے میں وارڈنز کے اہلِ خانہ کے ساتھ تعلقات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ خاندانی ماحول اور گھریلو زندگی کا ذہنی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے، اس لیے اس پہلو کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ وارڈنز کی مجموعی ذہنی کیفیت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
لاہور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام نے واضح کیاکہ نفسیاتی رپورٹس کی بنیاد پر اصلاحی اقدامات کیے جائیں گے، اگر کسی وارڈن میں ذہنی تناؤ، رویوں میں کمی یا کوئی نفسیاتی مسئلہ سامنے آیا تو اس کے لیے فوری طور پر خصوصی سپورٹ پروگرام متعارف کروائے جائیں گے۔
اس حوالے سے ذہنی صحت بہتر بنانے کے لیے جدید تھراپی سیشنز، کونسلنگ اور ٹریننگ پروگرامز کا خاکہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ وارڈنز کے رویوں میں بہتری لانے کے لیے ماہرینِ نفسیات کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں۔ یہ ماہرین نہ صرف ٹیسٹنگ بلکہ مسلسل مانیٹرنگ اور فالو اپ سیشنز بھی کریں گے۔
ٹریفک پولیس کے ایک سینیئر آفیسر نے بتایا کہ ٹریفک وارڈنز دن بھر عوام کے سامنے کھڑے رہتے ہیں۔ شدید گرمی، بارش، ٹریفک کا دباؤ، عوامی غصہ اور بعض اوقات توہین آمیز رویے ان پر ذہنی دباؤ بڑھاتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر ہم ان کی ذہنی صحت کا خیال نہ رکھیں تو نہ صرف ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کے ساتھ ان کے برتاؤ پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ یہ چیک اپ انہیں زیادہ مؤثر اور خوشحال بنائے گا ۔
یہ اقدام لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے ایک طویل مدتی منصوبے کا آغاز ہے جس کا مقصد نہ صرف وارڈنز کی کارکردگی بڑھانا بلکہ شہریوں کے ساتھ ان کے تعلقات کو بہتر بنانا بھی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ نفسیاتی طور پر صحت مند وارڈن نہ صرف ٹریفک کے بہتر انتظام میں کردار ادا کرےگا بلکہ عوام کی شکایات اور تناؤ کو بھی کم کرے گا۔
مزید پڑھیں: لاہور میں ٹریفک مسائل سے نمٹنے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا انقلابی فیصلہ
پولیس حکام نے بتایا کہ نفسیاتی چیک اپ کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور تمام وارڈنز کو اس میں شامل کیا جائے گا۔ رپورٹس کی رازداری کو مکمل طور پر یقینی بنایا جائے گا تاکہ کوئی وارڈن ذہنی طور پر متاثر نہ ہو۔
’اگر وارڈنز ذہنی طور پر پرسکون ہوں گے تو ان کا برتاؤ بھی بہتر ہوگا۔‘













