کوکین کوئین کی کہانی: دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انمول عرف پنکی نے اپنے جرائم کا سفر 13 سال قبل شروع کیا۔ شادی کے بعد اس نے اپنے قدم جمائے اور دیکھتے ہی دیکھتے پوش علاقوں میں منشیات کی سپلائی کا جال بچھا دیا۔ ابتدائی طور پر آئس نامی منشیات پوش علاقوں میں فروخت کرتی رہی، تاہم بعد میں کوکین کے کاروبار میں داخل ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، تحقیقاتی افسر تبدیل، اہم آڈیو بھی منظر عام پر آ گئی

ملزمہ کی شاطرانہ چال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے اپنی انگلیوں کے پوروں کو تیزاب اور تیز دھار آلے سے زخمی کر دیا تھا۔ اس کا مقصد بائیومیٹرک شناخت کو ناممکن بنانا تھا تاکہ کسی بھی ریکارڈ میں اس کا سراغ نہ مل سکے۔ دورانِ تفتیش انمول عرف پنکی نے بتایا کہ شناخت چھپانے کے لیے اس نے اپنی انگلیاں تیزاب سے جلائیں اور تیز دھار آلے سے انگلیوں کو نقصان پہنچایا تاکہ بائیو میٹرک شناخت ممکن نہ ہوسکے۔ ملزمہ کے مطابق بیشتر ادارے صرف اس کا نام جانتے تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ کئی برس تک روپوش رہنے میں کامیاب رہی۔

دوران تفتیش پنکی نے انکشاف کیا کہ وہ لاہور کے ایک کرائے کے مکان میں، جہاں اس کی والدہ اور بچہ بھی مقیم تھے، ملزمہ نے ایک خفیہ لیبارٹری قائم کر رکھی تھی۔ جس کے لیے خام مال بیرون ملک سے منگوائی گئی کوکین ہوتی تھی، کوکین کو مزید مہلک بنانے کے لیے ہول سیل مارکیٹ سے خریدے گئے کیمیکلز (کیٹامائن اور ایسیٹون) استعمال کیے جاتے تھے۔ کوکین میں استعمال ہونے والے کیمیکل کیٹامائن اور ایسیٹون ادویات کی ہول سیل مارکیٹ سے حاصل کیے جاتے تھے۔

دوران تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمہ نے اپنی کوکین کی باقاعدہ پیکنگ اور پرنٹنگ کروا رکھی تھی۔ اس کا خاص پروڈکٹ گولڈ کے نام سے مشہور تھا۔ پیکجنگ اور پرنٹنگ عام مارکیٹ سے کرائی جاتی تھی۔

ملزمہ کے مطابق عام مارکیٹ میں کوکین 10 سے 12 ہزار روپے فی گرام فروخت ہوتی تھی جبکہ اس کی تیار کردہ کوکین 20 سے 25 ہزار روپے فی گرام اور ’گولڈ‘ نامی برینڈ 40 ہزار روپے فی گرام تک فروخت کیا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ڈرگ ڈیلر پنکی کی گرفتاری کی ویڈیو منظرِ عام پر آگئی

دوران تفتیش ملزمہ نے انکشاف کیا کہ وہ اتنے عرصے تک صرف قسمت کے بل بوتے پر نہیں، بلکہ سیاہ دھن کے زور پر بچی رہی، ملزمہ کے بقول اس نے کراچی اور پنجاب کے متعدد پولیس اہلکاروں کو گرفتاری سے بچنے کے لیے کروڑوں روپے دیے۔

دوران تفتیش ملزمہ نے انکشاف کیا کہ لاہور میں ایک کارروائی کے دوران اس نے پولیس اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی اور وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ پنکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے اپنے نام پر نہ کوئی بینک اکاؤنٹ رکھا، نہ گاڑی اور نہ ہی کوئی گھر، تاکہ کوئی دستاویزی ثبوت نہ مل سکے۔

ملزمہ خود کو پردے کے پیچھے رکھتی اور پورا نیٹ ورک اکیلے کنٹرول کرتی تھی۔ منشیات کی ترسیل کے لیے رائڈرز اور کم عمر لڑکیوں کا استعمال کیا جاتا تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم شہباز شریف

’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ