ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق منشیات فروش انمول عرف پنکی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ملزمہ کو تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ ملزمہ کو آج دوبارہ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تھی، تاہم آج دوبارہ عدالت کے روبرو جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:انمول عرف پنکی پر اسلحہ ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج
انہوں نے کہا کہ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ ان کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف ماضی میں درج مقدمات کی تفصیلات بھی اکٹھی کر لی گئی ہیں۔
جسمانی ریمانڈ کی منظوری کے بعد پولیس ملزمہ کو جیل سے لینے کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔
🚨 A new audio of “Cocaine Queen” Anmol Pinky has been leaked, which she reportedly recorded before her arrest.
In the message, she says:
“Even after my arrest, operations will continue. If you are hearing this message, it means I have either passed away or something serious pic.twitter.com/5x6Z8lvrLb
— Hamdan News (@HamdanWahe57839) May 13, 2026
منشیات فروش انمول عرف پنکی کو گرفتاری کا خدشہ پہلے سے تھا، ایک اور آڈیو سامنے آگئی ہے۔ آڈیو میں مبینہ طور پر انمول عرف پنکی اپنے کلائنٹس کو آگاہ کر رہی ہے کہ اگر وہ یہ پیغام سن رہے ہیں تو یا اس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہے یا وہ اس دنیا میں نہیں ہے۔
آڈیو کے مطابق وہ کہتی ہے کہ اگر اسے کچھ ہوتا ہے تو اسی نمبر سے کوئی رابطے میں آئے گا، اور رابطہ کرنے والا اس کا ایک مرد دوست ہوگا جو اس کام کو ہینڈل کرے گا۔ آڈیو میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر اس کے ساتھ کچھ ہو جاتا ہے تو اسی نمبر سے کام جاری رکھا جائے گا۔
دوسری جانب کراچی پولیس میں معاملے کی تحقیقات سے متعلق بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ ایس ایس پی ساؤتھ کو انکوائری سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی کی چلتی پھرتی کوکین لیب: پنکی کوئین انمول کی کہانی
ایڈیشنل آئی جی کے مطابق عرفان بلوچ عدالت میں پیشی کے دوران سامنے آنے والے معاملات کی تحقیقات کریں گے، جبکہ پروٹوکول پر عمل نہ کرنے کے معاملے کی بھی انکوائری کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو 3 دن میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، اور غفلت و لاپروائی میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔














