وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملٹری کورٹس سے متعلق قانون سازی لانے جا رہی ہے اور اس حوالے سے جائز مطالبات کو پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی پر کابل حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر دہشتگردوں کی حمایت بند نہ کی گئی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ حکومت ملٹری کورٹس کے حوالے سے بل لا رہی ہے اور اس سلسلے میں تمام جائز مطالبات کو پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بات چیت اور ریلیف کے لیے حکومت کے دروازے کھلے ہیں۔
وزیر دفاع نے فاٹا سے متعلق حکومتی وعدوں پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق فاٹا کے علاقوں کی ترقی اور بحالی کے لیے وسائل کی فراہمی صرف وفاق ہی نہیں بلکہ تمام صوبوں کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ اور فاٹا فنڈنگ سے متعلق معاملات کو آئینی فورمز پر حل کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے وزیر دفاع خواجہ آصف کی محمود اچکزئی پر تنقید، فوج سے متعلق بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیدیا
خواجہ آصف نے افغانستان کے ساتھ تعلقات اور دہشتگردی کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے متعدد ادوار کیے، حتیٰ کہ طالبان قیادت کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، تاہم کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق قطر، ترکی اور سعودی عرب نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ کابل حکومت اس بات کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ وزیر دفاع کے مطابق گزشتہ دنوں ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت 22 پاکستانی جوان دہشتگرد حملوں میں شہید ہوئے، جبکہ بنوں میں حالیہ حملوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں انتہائی افسوسناک ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود افغانستان کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے، لیکن کابل حکومت دہشتگردوں سے لاتعلقی اختیار کرنے اور ان کی پشت پناہی ختم کرنے پر آمادہ نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے بارہا افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشتگردوں کے کیمپ ختم کریں اور سرحد پار حملوں کی روک تھام یقینی بنائیں۔
وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ بھارت براہ راست محاذ آرائی کے بجائے افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ لڑ رہا ہے۔ ان کے بقول ’اب پاکستان کے خلاف جنگ کابل سے لڑی جا رہی ہے‘ اور طالبان حکومت بھارت کی پراکسی بنی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت، دہشتگردوں کو بھرپور طاقت سے جواب دیا جائےگا، خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت پہلے دہشتگردی کے خلاف وفاقی پالیسی کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی نہیں تھی، تاہم اب صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف ریاستی مؤقف کی حمایت کر رہی ہے۔
خواجہ آصف نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر افغانستان دہشتگردوں کی پشت پناہی ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو پاکستان جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’اگر کابل نے دہشتگردوں کی سرپرستی بند نہ کی تو جو دہلی کے ساتھ کیا، وہی کابل کے ساتھ بھی کریں گے۔‘
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ’معرکۂ حق‘ کے بعد بھارت پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی بھی ہمت نہیں کر سکتا، کیونکہ پاکستان نے ہر محاذ پر اپنی طاقت، اتحاد اور دفاعی صلاحیت کا مؤثر مظاہرہ کیا ہے۔













