غزہ جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے ’بورڈ آف پیس‘ کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف نے کہا ہے کہ حماس کو بطور سیاسی جماعت ختم کرنا مقصود نہیں، تاہم غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔
مقبوضہ مشرقی یروشلم میں بدھ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نکولے ملادینوف نے واضح کیا کہ ہم حماس سے بطور سیاسی تحریک ختم ہونے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ حماس اور دیگر مسلح گروہوں کا اسلحہ چھوڑنا ایک ایسا معاملہ ہے جس پر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ کا مستقبل اب بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
یہ بھی پڑھیے ترک وزیر خارجہ کی حماس وفد سے ملاقات، غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی نافذ ہونے کے 7 ماہ بعد بھی ’غزہ کے مستقبل کا دروازہ اب تک بند ہے۔‘ ان کے بقول فلسطینیوں سے جو وعدے کیے گئے تھے، موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے، جبکہ اسرائیلی عوام کو بھی وہ سیکیورٹی میسر نہیں آ سکی جس کی انہیں توقع تھی۔
ملادینوف نے کہا کہ جنگ بندی برقرار ضرور ہے، لیکن یہ کسی طور مکمل یا مثالی نہیں۔ ان کے مطابق روزانہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، جن میں بعض انتہائی سنگین نوعیت کی ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کارروائیوں اور خلاف ورزیوں کی جانب اشارہ کیا۔
ٹرمپ کی امن کوشش اور بورڈ آف پیس
’بورڈ آف پیس‘ کا قیام جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہل پر عمل میں آیا تھا، جس کا مقصد غزہ میں پائیدار امن کے لیے سیاسی حل تلاش کرنا تھا۔ بعد ازاں امریکا نے اعلان کیا تھا کہ مزید ممالک بھی اس امن عمل میں شامل ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے حماس کا ہتھیار پھینکنے سے انکار، اسرائیلی جنگ بندی پر عملدرآمد تک مذاکرات مسترد
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 سے جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 856 فلسطینی شہید جبکہ 2 ہزار 463 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ جنگ بندی اسرائیل کی جانب سے اکتوبر 2023 میں غزہ میں شروع کی گئی 2 سالہ جنگ کے بعد عمل میں آئی تھی۔ بعد ازاں مختلف شکلوں میں جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ غزہ کا تقریباً 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر بھی تباہ ہو چکا ہے۔











