پنجاب کے صوبائی وزیر برائے زراعت و لائیو اسٹاک سید عاشق حسین کرمانی کا کہنا ہے کہ پنجاب میں گندم کی کوئی کمی نہیں اور نہ ہی بیرون ملک سے گندم درآمد کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: گندم اور چاول کی پیداوار میں اضافہ، زرعی شعبے میں ہدف کا حصول ممکن نہ ہو سکا، اقتصادی سروے
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ گزشتہ سال کی طرح رواں سال بھی صوبہ گندم کے حوالے سے کسی بحران کا شکار نہیں ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال کسانوں نے گندم 3 ہزار 500 سے 4 ہزار روپے فی من تک فروخت کی جس سے انہیں مناسب منافع حاصل ہوا جبکہ گزشتہ سال گندم کی قیمت تقریباً 2 ہزار 200 روپے فی من رہی تھی جس کے باعث کاشتکاروں کو نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
’ یوریا اور ڈائی امونیم فاسفیٹ کی فراہمی یقینی بنائی گئی‘
صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود پنجاب میں نہ یوریا کھاد کی کمی ہونے دی گئی اور نہ ہی ڈائی امونیم فاسفیٹ کھاد (ڈی اے پی) کی قلت پیدا ہوئی جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش کو اس دوران کھاد کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ اپوزیشن نے گندم کے معاملے پر بلاوجہ شور مچایا اور کسانوں کو گندم کی کاشت سے روکنے کی کوشش کی تاہم اس کے باوجود پنجاب میں ایک کروڑ 60 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر گندم کاشت کی گئی اور تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔
مزید پڑھیے: گندم کی بین الصوبائی آزادانہ نقل و حمل کو یقینی بنایا جائے، گورنر خیبرپختونخوا کا وزیراعظم سے مطالبہ
انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبوں میں گندم کی نقل و حمل پر پابندیاں موجود ہیں اور پنجاب میں بھی یہی پالیسی اختیار کی گئی ہے تاکہ ذخیرہ اندوز کسانوں سے سستی گندم خرید کر دوسرے صوبوں میں مہنگے داموں فروخت نہ کر سکیں۔
’پنجاب حکومت نے 97 فیصد کسانوں کو ہر فصل کے لیے مالی معاونت دی‘
صوبائی وزیر نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے 97 فیصد کسانوں کو ہر فصل کے لیے 30 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے معاونت فراہم کی جبکہ 10 لاکھ کاشتکاروں کو مجموعی طور پر 250 ارب روپے کے بلاسود قرضے دیے گئے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار ٹریکٹر بھی کسانوں میں تقسیم کیے گئے۔
سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ اپوزیشن نے اپنے دور حکومت میں کسانوں کی فلاح کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا جبکہ موجودہ حکومت زراعت کے فروغ اور کاشتکاروں کی خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں اور ان جتنا کسانوں کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں ایگری انٹرن پروگرام کے مثبت اثرات، گندم کی پیداوار میں اضافہ
روٹی کی قیمتوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ جب گندم کی قیمت 2 ہزار 200 روپے فی من تھی تو روٹی 14 روپے کی مل رہی تھی لہٰذا اگر گندم کی قیمت بڑھے گی تو روٹی کی قیمت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
کرنسی نوٹ پر نواز شریف کی تصویر کا معاملہ
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی ملک ارشد کی جانب سے کرنسی نوٹوں پر نواز شریف کی تصویر لگانے کی تجویز محض اظہار محبت تھی۔
ان کے بقول ہر شخص اپنے قائد سے محبت کا اظہار مختلف انداز میں کرتا ہے تاہم مسلم لیگ (ن) ہمیشہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے افکار پر عمل کرنے کے لیے کوشاں رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ای سی سی اجلاس: پاسکو کے پاس موجود 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ ممکنہ تیسری جنگ کو روکنے میں میاں نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم کردار ادا کیا۔












