اداکارہ مریم نفیس نے کہا ہے کہ والدین کو اپنی جوانی ہی میں اس بات کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے کہ وہ بڑھاپے میں خود کفیل ہوں اور اپنے بچوں پر انحصار نہ کریں۔
ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مریم نفیس نے روایتی مشترکہ خاندانی نظام اور بیٹے کو بڑھاپے کا سہارا سمجھنے کے تصور پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سوچ اب پرانی ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بیٹے والدین کا سہارا بنتے ہیں جبکہ بیٹیاں شادی کے بعد اپنے گھر چلی جاتی ہیں تاہم آج کے دور میں بیٹے بھی شادی کے بعد الگ گھر لے لیتے ہیں۔ ان کے مطابق بیٹی اپنی ساری زندگی والدین کی بیٹی ہی رہتی ہے۔
مریم نفیس نے کہا کہ وہ ایسی مثالیں جانتی ہیں جہاں بیٹیاں شادی کے بعد بھی والدین کی کفالت اور دیکھ بھال کرتی ہیں اس لیے بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان اس حوالے سے فرق کا تصور ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض والدین صرف اس لیے بیٹے کی خواہش رکھتے ہیں کہ وہ بڑھاپے میں ان کا سہارا بنیں جو کہ ایک غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ والدین کو اپنی جوانی میں محنت کر کے اتنا معاشی طور پر مستحکم ہونا چاہیے کہ وہ بڑھاپے میں خود اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نفیس کا بچوں کے تحفظ کے لیے مرد کیئرٹیکر رکھنے پر اعتراض، والدین کو اہم مشورے
مریم نفیس نے اس بات پر زور دیا کہ شادی کے بعد نئے جوڑے کو علیحدہ گھر اور ذاتی جگہ دینا ضروری ہے اور یہ رویہ مذہبی اور سماجی دونوں لحاظ سے بہتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہر خاندان کے پاس علیحدہ گھر فراہم کرنے کی استطاعت نہیں ہوتی تاہم کم از کم یہ ضرور ہونا چاہیے کہ بہو کو گھر میں تبدیلیاں کرنے کی آزادی دی جائے تاکہ وہ خود کو آرام دہ محسوس کر سکے۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ نوجوان نسل کو اس حقیقت کے لیے ذہنی طور پر تیار ہونا چاہیے کہ ایک وقت آئے گا جب ان کے بچے ان پر مکمل انحصار نہیں کریں گے۔














