ملازمتوں میں سست روی کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت نہیں، نئی تحقیق نے دعوے چیلنج کر دیے

اتوار 17 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں روزگار کے مواقع میں کمی اور ملازمتوں کی سست روی کے حوالے سے ایک نئی تحقیق نے اس تاثر کو چیلنج کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت نوکریوں کے خاتمے کی بنیادی وجہ بن رہی ہے۔ نیویارک فیڈرل ریزرو کی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی لیبر مارکیٹ میں سست روی کا آغاز چیٹ جی پی ٹی کی آمد سے پہلے ہی ہو چکا تھا، اس لیے تمام تر ذمہ داری مصنوعی ذہانت پر ڈالنا درست نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:اے آئی ہماری تحریر کا قدرتی اور منفرد انداز چھین تو نہیں رہی؟

تحقیقی رپورٹ کے مطابق نیویارک فیڈرل ریزرو کے ماہرین نے ان شعبوں میں ملازمتوں کے رجحانات کا جائزہ لیا جو مصنوعی ذہانت سے زیادہ متاثر سمجھے جاتے ہیں، جن میں پروگرامرز، کسٹمر سروس نمائندگان اور ڈیٹا انٹری آپریٹرز شامل ہیں۔ تحقیق میں اینتھروپک کمپنی کے ماہرین معاشیات کی تیار کردہ پیمائش کو استعمال کرتے ہوئے نومبر 2022 میں چیٹ جی پی ٹی کے اجرا سے پہلے اور بعد کی صورتحال کا موازنہ کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت واقعی لیبر مارکیٹ میں بڑی تبدیلی کی بنیادی وجہ ہوتی تو چیٹ جی پی ٹی کے اجرا کے بعد متاثرہ اور غیر متاثرہ شعبوں میں بھرتیوں کا فرق واضح طور پر بڑھ جاتا، تاہم تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ فرق 2022 سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متاثر ہونے والے شعبوں میں ملازمتوں کے اشتہارات چیٹ جی پی ٹی کے آغاز سے پہلے ہی کم ہونا شروع ہو گئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزگار کی سست روی کے پیچھے دیگر معاشی عوامل بھی کارفرما تھے۔

یہ بھی پڑھیں:اے آئی کا زیادہ استعمال دماغ کو سست بنا رہا ہے، کن صلاحیتوں کو شدید خطرہ ہے؟

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 2024 کے آغاز میں مجموعی بھرتیوں کے رجحان میں بہتری دیکھی گئی اور ملازمتوں کی شرح دو برس کی بلند ترین سطح تک پہنچی، جبکہ برطرفیوں کی شرح 0.9 سے 1.2 فیصد کے درمیان رہی، حالانکہ متعدد کمپنیاں 2021 سے ملازمین کی تعداد کم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کو وجہ قرار دیتی رہی ہیں۔

امریکی کمپنیوں سسکو، میٹا، گوگل اور ایمیزون سمیت کئی بڑی ٹیکنالوجی فرموں نے حالیہ عرصے میں ملازمین کی چھانٹیوں کو مصنوعی ذہانت سے جوڑا تھا۔

دوسری جانب گولڈمین سیکس کی ماہرِ معاشیات ایلسی پینگ کے مطابق اگرچہ مصنوعی ذہانت سے متاثرہ شعبوں میں ملازمتوں کے اشتہارات وبا سے پہلے کی سطح سے نیچے آ چکے ہیں، تاہم لیبر مارکیٹ میں مہارتوں کے عدم توازن میں کمی دیکھی جا رہی ہے، جو مستقبل میں استحکام کی علامت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں