جیکب آباد کے علاقے میرپور بوریرو میں پسند کی شادی کے تنازع پر مشتعل افراد کی جانب سے پورا گاؤں جلائے جانے کے واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دے دیا، جبکہ پولیس نے دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پسند کی شادی کا خوفناک انجام، جیکب آباد میں پورا گاؤں جلا دیا گیا
رپورٹس کے مطابق چنا برادری سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ لڑکی سدرا نے مبینہ طور پر بوریرو برادری کے نوجوان محمد حسن بوریرو سے پسند کی شادی کی، جس کے بعد دونوں نوجوان روپوش ہو گئے۔
واقعے کے تقریباً 10 روز بعد لڑکی کے رشتہ داروں اور ان کے حامیوں نے مبینہ طور پر گاؤں محمد صادق آرائیں پر حملہ کر دیا اور متعدد گھروں کو آگ لگا دی۔ مقامی افراد کے مطابق حملے میں 100 سے زائد مکانات جل کر خاکستر ہو گئے جبکہ گھریلو سامان بھی تباہ ہو گیا، جس سے متاثرہ خاندانوں کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا۔

واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی خاندان گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے پورے گاؤں کو نشانہ بنایا۔
میرپور بوریرو تھانے میں غلام شبیر بوریرو کی مدعیت میں 32 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں محسن علی چنا، صدام حسین چنا، عبداللہ چنا، محمد رفیق بھٹی، جہانگیر، منیر احمد اور کلیم اللہ بروہی سمیت دیگر شامل ہیں۔
ایس ایس پی فیضان علی کے مطابق مقدمہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے اور مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پسند کی شادی کرنے پر باپ نے بیٹی کو مار ڈالا، قتل چھپانے پر پولیس اہلکار معطل
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کو ’غیر انسانی اور ناقابلِ برداشت‘ قرار دیتے ہوئے لاڑکانہ ڈویژن کے کمشنر اور ڈی آئی جی سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیراعلیٰ نے پولیس کو ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کی جان و مال سے کھیلنے والوں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔














