وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، غربت اور رہائشی ناانصافی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں، سیلاب چند دنوں میں دو نسلوں کی محنت کو تباہ کر دیتے ہیں۔
ورلڈ اربن فورم 13 میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے محفوظ اور مضبوط شہر اور کمیونٹیز کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ مسئلہ صرف ہاؤسنگ کا نہیں بلکہ بنیادی طور پر انصاف کا بحران ہے، اور شہری منصوبہ بندی میں انصاف اور شمولیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاکہ پاکستان کی قریباً 50 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے جبکہ شہری آبادی کا 55 فیصد حصہ کچی آبادیوں میں مقیم ہے۔
انہوں نے کہاکہ کچی آبادیاں صرف ایک پالیسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ کراچی میں 2024 کے دوران ہیٹ ویو کے موقع پر درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں صرف 7 دنوں میں قریباً 560 افراد جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہیٹ ویوز اور سیلابوں کا سب سے زیادہ بوجھ غریب طبقہ برداشت کرتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ گزشتہ 4 بڑے سیلابوں میں قریباً 6 ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 20 ہزار افراد زخمی یا معذور ہوئے اور تقریباً 4 کروڑ افراد بے گھر ہوئے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ سستی رہائش کو فلاحی سہولت نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق سمجھنا ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ رہائش صرف سرمایہ کاروں کے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے تعمیر کی جانی چاہیے، جبکہ گرین اور پائیدار ترقی کو صرف نعرہ یا ظاہری خوبصورتی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ باکو کال فار ایکشن میں انصاف اور کمزور طبقات کے تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ زیادہ منصفانہ اور محفوظ شہری نظام تشکیل دیا جا سکے۔














